آپ بھی تو غلط راہ پر نہیں؟

صحیح سمت کا تعین
اگر ایک انسان غلطی پر ہو اور اسے احساس بھی ہو جائے تو کیا اسے وہ سب جاری رکھنا چاہیے؟ کیا اسے اپنی غلطی تسلیم کرکے اپنی راہ بدل نہیں لینی چاہیے؟ ایک غلط راہ پر ، جو آپ کے مقصد کے حصول کی طرف جاتی ہی نہ ہو، سفر کرتے ہی رہنا عقلمندی ہے؟ اگر آپکو کہیں جانا ہواور آپ گاڑی میں سوار ہو چکے ہوں ، لیکن سفر کے دوران آپکو پتا چلے کہ آپ غلط گاڑی میں سوار ہو چکے ہیں جو اس منزل کی جانب جا ہی نہیں رہی تو آپ کیا کریں گے؟ یقینا! آپ پہلی کوشش میں اس سے اتر کر اپنی منزل کو جانے والی گاڑی میں سوار ہوں گے، نا کہ اس پہلی والی گاڑی کی منت کریں گے کہ تم ہمیں ہماری منزل تک پہنچاؤ ہی پہنچاؤ۔ کیونکہ وہ تو وہاں جا ہی نہیں رہی۔ بالکل ایسے ہی زندگی کے معاملات میں بھی جب کبھی آپکو محسوس ہو کہ آپ غلط راہ اختیار کر چکے یں تو فوراً اپنی درست سمت کا تعین کرنے کی کوشش کریں۔ جو مقاصد آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جس مقام تک آپ پہنچنا چاہتے ہیں اسکی جانب جانے والی صحیح راہ اختیار کریں، ناکہ جو راہ آپ نے اپنائی ہوئی ہے اسے یہ کہہ کر چھوڑنے سے انکار کر دیں کہ میں بہت سا سفر طے کر کے بہت سی مشکلات دیکھ کر یہاں تک پہنچا ہوں اور اب جہاں بھی یہ راہ لے جائے وہی ٹھیک ہے تاکہ میری محنت ضائع نہ جائے۔ جب ایک راہ آپکو آپکی خواہش کی منزل تک لے کر ہی نہیں جاتی تو اپنے اس طے شدہ سفر کیلئے اپنی خواہش کو کیوں قربان کرتے ہیں؟ کیا آپ وہ نہیں پانا چاہتے جو آپ نے اپنے لیے سوچا تھا ، جسکا آپ نے خواب دیکھا تھا اور جو آپکے سوچے سمجھے فیصلے کے مطابق آپکے لیے بہتر تھا؟ یہ تو محض غلطی برائے غلطی کرنے والی بات نہ ہوئی؟ کیا اپنے کچھ وقت اور محنت کے ضیاع کے بدلے آپ اپنی باقی کی زندگی خراب کر دینا چاہیں گے؟ کہیں آپ بھی تو غلط راہ پر نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *