اتنا نا روا سلوک کیوں؟

خواجہ سرا بھی خدا کی مخلوق

کیا خواجہ سرا خدا کی مخلوق نہیں؟ اس معاشرے کے لوگ آخر ان کی زندگی کیوں عذاب بنا دیتے ہیں اور ان پر عرصۂ حیات کیوں تنگ کر دیتے ہیں؟ کیا وہ انسان نہیں ؟ کیا وہ ہماری طرح بحیثیت ایک انسان تمام انسانی حقوق نہیں رکھتے؟ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کیساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس سے ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں۔یہاں انہیں مذاق کا نشانہ بنا کر احساسِ کمتری کا شکار کرایا جانا ایک معمولی بات ہے۔ آئے دن ایسے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس مظلوم مخلوق کو اس معاشرے میں کوئی جگہ ، عزت اور حقوق میسر نہیں۔ انہیں لوگ اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتے کہ وہ ایک انسان کی حیثیت سے کھُل کر زندگی گزار سکیں ۔ان لوگوں کو نہ تو کوئی روزگار دینے پر تیار ہوتا ہے اور نہ ہی انسان سمجھنے پر۔ مجبوراً انہیں یا تو بھیک مانگ کر گزارا کرنا پڑتا ہے یا پھر خوشی کے مواقع پر لوگوں کا دل بہلانے کیلئے ناچ گا کر۔ جب ان سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے اس حقیقت سے آشکار کیا کہ وہ بھی یہ کام نہیں کرناچاہتے مگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہیں کیونکہ بھوک تو برداشت نہیں ہوتی اور پہننے کو کپڑے بھی چاہئیں۔ ہوتے ہیں اس لئے یہ کام کرکے وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ انہیں اکثر اوقات ہی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ انہیں ہمیشہ یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ نہ تو وہ مرد ہیں نہ عورت۔ اس طرح احساسِ کمتری انکا نصیب بن جاتی ہے ۔ کچھ اعلیٰ خاندان کے لوگ جو انہی کی فہرست میں شمار ہیں وہ شوبز یا فیشن انڈسٹری میں جگہ پا لیتے ہیں اور اپنی خدمات سے ایک مقام حاصل کر لیتے ہیں مگر لاکھوں دیگر خواجہ سرا اس معاشرے میں گلی کوچوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ کوئی بھی انہیں بنیادی انسانی حقوق تک دینے کو تیار نہیں اور استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے کورٹ کچہریوں میں یہ اپنا مدعا بیان کر کے اپنا حق طلب کر نہیں سکتے۔ کیا ہم انسان نہیں یا پھر ہمارے اندر خوفِ خدا نہیں رہا؟ کیا ہوا جو وہ جنس نہیں رکھتے ، جان تو رکھتے ہیں نا؟ کیا وہ جیتے جاگتے انسان نہیں؟ انکے حقوق کیلئے کیوں کوئی آواز بلند نہیں کرتا؟ اگر آج ہم انکے حقوق صلب کر رہے ہیں اور انہیں ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں تو اس دنیا میں چاہے ہمیں سزا دینے والا کوئی نہ ہو، روزِ قیامت خدا تعالیٰ کو تو جوابدہ ہوں گے نا؟ پھر اتنا ناروا سلوک کیوں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *