احساس کیوں نہیں؟

چھوٹے چھوٹے گناہ
کیا آپ نے کبھی اپنے اردگرد ہونے والی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور اعمال کو محسوس کیا؟ کیا آپ نے کبھی دھیان دیا کہ کس قدر عام ہو چکی ہیں کہ اب ہمیں یہ کوئی غلطی محسوس ہی نہیں ہوتیں؟ اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے اوامر دکھائی دیں گے جو ہیں تو غلط مگر اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ ہمارے روزمرہ معمولات کاحصہ بن چکے ہیں ۔ لہٰذا ہم بھی ان سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ ہمیں یہ اوامر گناہ لگتے ہی نہیں۔ اور یہ اسی طرح پوری آب و تاب کیساتھ اس معاشرے میں موجود ہیں۔ مثال لے لی جائے پھولوں کی تو پودے بھی جاندار شمار ہوتے ہیں، اس بنیاد پر کہ یہ ایک خاص طریقے سے سانس لیتے ہیں، انہیں خوراک چاہیے ہوتی ہے اور یہ بڑھتے ہیں۔ ایک جاندار کو تکلیف دینیایا اسکا کوئی جزو اس سے جدا کرناواضح طور پر گناہ ہے۔ مگر یہاں دیکھنے کو ملتا ہے کہ پھولوں کو بیدردی سے شاخوں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور پھر مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک بات ہے انکے جائز استعمال کی کہ اگر یہ کسی بیماری کے علاج کیلئے کسی دوا میں استعمال ہوں یا کسی ایسے مقصد کیلئے جو دوسروں کیلئے فائدہ مند ہو تو کوئی جواز بنتا ہے ۔ مگر انہیں فضول مقاصد کیلئے استعمال کرنا سراسر ناجائز ہے جیسے کہ شادی بیاہ اور خوشی کی دیگر تقریبات میں مہمانوں کی آمد پر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جنہیں قدموں میں روندنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یوں انکی نہایت بے حرمتی کی جاتی ہے۔ دوسری مثال جانوروں کی لے لی جائے تو انہیں پالنے کے نام پر انکی نسل کے دوسرے جانداروں سے دور کر کے قید کر دیا جاتا ہے۔ پھر کچھ جانوروں جیسا کہ ریچھ اور بندر وغیرہ کو تربیت دے کر تماشے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ پرندوں اور مرغوں کی لڑائیاں کروائی جاتی ہیں۔ایسی ہر تربیت کیلئے ،چاہے وہ تماشے کی ہو یا لڑائی کی، ان بے زبان جانوروں اور پرندوں پر ظلم کیا جاتا ہے اور ڈنڈے یا چابک چلائے جاتے ہیں تاکہ وہ خوف سے سیکھ جائیں کیونکہ وہ عقل سے تو محروم ہوتے ہیں۔ تربیت اور لڑائی کے دوران وہ بری طرح سے زخمی بھی ہو جاتے ہیں۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اگر یہ سب سلوک ہمارے ساتھ کیا جائے، ہمارے جسم کے کسی جزو کو ہم سے جدا کرکے اسکی بے حرمتی کی جائے، یا ہمیں قید کر دیا جائے، یا پھر کسی تربیت پر زبردستی مجبور کرکے ظلم کیا جائے، تو کیسا محسوس ہوگا؟ ہم ان ناجائز اوامر کی مخالفت کیلئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟کیا ہم بھی برابر کے شریک نہیں؟ احساس کیوں نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *