ادھر بھی دھیان کی ہے ضرورت

پاکستانی فلمی صنعت کی زوال پزیری

پاکستان کی فلمی صنعت کیوں زوال کا شکار ہے؟ وجہ قابلیت کی کمی ہے؟ یا پھر سہولیات اور مدد کی؟ کیا اسے پھر سے ترقی کی راہ پر گامزن کر نے کے امکانات اور ذرائع ہیں؟ پاکستان کی فلمی صنعت گزشتہ دس سال سے برے حالات سے دو چار ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ پاکستان کی فلمی صنعت کو ایشیائی ممالک میں نہ صرف نمایاں بلکہ مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ناکافی سہولیات کے باوجود بھی اداکاروں کی اداکاری ایسی تھی کہ کوئی بھی دیکھنے والا انکار کر ہی نہ پاتا۔ کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت فلم کی تیاری کے دوران اخلاقی اقدار و روایات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھااور ہر عمر کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدلے اور دوسرے ایشیائی ممالک خاص طور پر ہمارے روایتی حریف ہندوستان نے اس شعبے میں ترقی کے جھنڈے گاڑنا شروع کر دیے۔ اسکی اہم بنیاد جدید ٹیکنالوجی اور سہولیات کی فراہمی اور استعمال تھا۔ پاکستان میں ناکافی سہولیات کے باعث آہستہ آہستہ فلمی صنعت کو زوال آنے لگا اور پچھلے چند سالوں تک یہی حالات رواں رہے۔ اس ضمر میں فلموں کا معیار سے گر جانا بھی ایک اہم کڑی ہے۔ فلموں میں اخلاقی اقدار و روایات کا لحاظ رکھنے کی بجائے انہیں فحاشی کے مجموعہ کی صورت میں پیسے کمانے کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا اور روایاتی لوگ انہیں دیکھنے سے کترانے لگے۔ ہندوستان اس صنعت میں تیزی سے ترقی کرتا گیا اور آج انکی یہ صنعت جس مقام پر ہے اور انہیں جتنا زرِ مبادلہ دے رہی ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے کچھ اچھے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی طرف سے پاکستانی فلمی صنعت کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے اور عروج پر لے جانے کی مشترکہ کوشش کے طور پراچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ فلموں میں اپنی تہذیب اور تمدن کا خیال رکھا جائے۔ حکومت اس سلسے میں کردار ادا کرنے سے کیوں قاصر دکھائی دیتی ہے؟ کیا اگر حکومت کی طرف سے فلمسازی کیلئے بھی بجٹ میں جگہ مختص کی جائے تو پاکستانی فلمی صنعت کو مدد حاصل نہ ہو جائے ؟ اور یہ زرِ مبادلہ کمانے اور اسے ملک کی ترقی پر صرف کرنے کا سبب نہ بن جائے؟ کیا پاکستان کے فلمساز اور ہدایتکار کسی سے کم ہیں کیا؟ کیا پاکستان میں ہنر اور قابلیت کی کمی ہے؟ اگر یہاں کی فلمی صنعت کومناسب اور جدید سہولیات فراہم کر دی جائیں تو یہ صنعت ایک بار پھر سے عروج کی جانب رواں دواں ہو کر ملک کو ترقی نہ دلا دے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *