امید کس پر رکھی جائے؟

امید کس پر رکھی جائے؟
اک نظر سرکاری ہسپتالوں کے حالات پر

پاکستان میں محکمہ صحت کی کارکردگی اس قدر خراب کیوں ہے؟ کیا نئی حکومت سے اس سلسلے میں امید رکھی جائے کہ پاکستان کی عوام کو اب اچھی سہولیات میسر ہوں گی اور وہ سرکاری ہسپتالوں میں بہتر علاج کرانے کے قابل ہوں گے؟ آج تک کبھی اس معاملے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ سرکاری ہسپتالوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ شاید ہی علاج معالجے کی کوئی ایسی سہولت ہو جو یہاں صحیح طور موجود ہو۔ اکثر ہسپتالوں کی حالت تو یہ ہے کہ مریض کا دم بھی نکلتا ہو تو ڈسپنسری میں ایک گولی ایسی میسر نہیں ہوتی جو اسکی جان بچا سکے۔چند سے زیادہ داخل شدہ مریضوں کیلئے نہ تو بستر کی سہولت ہوتی ہے اور نہ ہی ادویات کی۔ اگر غلطی سے بستر مل ہی جائے تو اس قدر نا منا سب ہوتا ہے کہ اس پر کوئی انسان لیٹنا تو درکنار، بیٹھنا بھی پسند نہ کرے۔ بات کی جائے اگر سرکاری ہسپتالوں کے عملے کی تو وہ مریض کو ایک جانور سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے۔ نہ تو مریضوں کی دیکھ بھال کا فریضہ بطریقِ احسن انجام دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے اچھا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ کسی طور بھی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنا گوارا نہیں کرتے مگر نقصان ہمیشہ غریب ہی کا ہوتا ہے اور ظلم کی چکی میں وہ ہی پستا ہے۔ جو لوگ سرکاری ہسپتالوں میں در بدر گھومتے ہیں وہ انکے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ادویات جو کہ مریضوں کو مفت میں فراہمی کی غرض سے مہیا کی جاتی ہیں، وہ باہر کیمسٹس کی دکانوں پر فروخت کر دی جاتی ہیں اور غریب مریضوں سے ضرورت پڑنے پر باہر سے خرید لانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ قانوناً بہت بڑا جرم ہے۔ صفائی ستھرائی کا ایسے سرکاری ہسپتالوں کے ماحول سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ عملہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی دے یا نہیں، تنخواہ مل جانی ہے۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ چھوٹے ے بڑے پیمانے تک خود کو بالکل آزاد تصور کرتے ہیں۔ ان سب حالات سے کم و بیش ہم سب ہی واقف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نئی آنے والی حکومت نے جہاں اتنے دعوے کیے، وہیں محکمہ صحت کی کارکردگی اور سرکاری ہسپتالوں پر بھی توجہ دی جائے گی یا نہیں؟ کیا غریب طبقے کوبھی کوئی سکھ ملے گا یا پھر ایک بار پھر سے نا امیدی ہی منتظر ہوگی؟ کیا برابری اور مساوات کے اصول کو واقعی ہی میں اپنایا جائے گا؟ کیا ان ہسپتالوں کے حالات بہتر بنائے جائیں گے اور یہاں تمام طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی یا نہیں؟ عوام ہے منتظر!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *