انسان کو کوئی چیز ہرا نہیں سکتی

جب تک وہ خود ہار نہ مان لے

انسان اتنی کام چور ی کیوں دکھاتا ہے ؟ کیوں محنت سےانسان اتنی کام چور ی کیوں دکھاتا ہے ؟ کیوں محنت سے جی چراتا ہے؟کیوں اس قدر سہل پسند اور عیاش ہو جاتا ہے کہ چاہتا ہے اسے کچھ کرنا بھی نہ پڑے اور بیٹھے بٹھائے سب کچھ مل جائے؟ ہمارے سامنے اکثر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قسمت اور نصیب کی خرابی کا شکوہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ خود محنت نہیں کرتے ، کام سے جی چراتے ہیں ، یا پھر انہیں انکی نیت کا بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے وہ سارا الزام قسمت کو دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا ہمیں دینا ہی نہیں چاہتا یا پھر یہ کہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ نصیب میں ہی یہ ملنا نہ تھا۔ یہ سراسر ایک غلط نظریہ ہے۔ خدا پاک کبھی کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اسکی محنت کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ ہاں مگر اسکے لیے محنت تو ضروری ہے نا۔ اللہ پاک نے ہمیشہ انسان کیلئے کئی راستے کھول رکھے ہوتے ہیں، اب اہم یہ ہے کہ کون اپنی مرضی کا مقام پانے یا اپنی خواہش بر لانے کیلئے محنت جاری رکھتا ہے ۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں مگر وہ ہمرے خدا پر ایمان اور یقین کا ایک امتحان ہوتی ہیں۔ جو انہیں صبر شکر سے گزارنے میں کامیا ب ہو جاتا ہے اسکے لیے اللہ پاک بہت اچھا اجر تیار کر رکھتے ہیں۔ اس لیے کبھی کبھی ہمیں ہماری من پسند چیز یا راہ مل نہیں پاتی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کبھی کبیھی خدا اپنے بندے کی محنت ، نیت اور اسکا جذبہ پرکھنا چاہ رہا ہوتا ہے، اسی لیے کوئی ایک راہ بند کردی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ مزید کئی راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ خدا پاک کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں محنت مشقت کے بعد بھی کچھ مل نہیں پا رہا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو۔ اگر آزمائش آ جائے تو بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟ کیا ہمیں اللہ پاک پر یقین نہیں ؟ کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے؟لیکن جب محنت اور کوشش کی ہی نہ جائے تو نصیب یا قسمت کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے؟ انسان کو کوئی چیز ہرا نہیں سکتی جب تک وہ خود ہار نہ مان لے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *