بات تو تلخ ہے مگر ہے سچائی کی

لڑکیوں کی شادی سے محرومی
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں لڑکیوں کی کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں لڑکیوں کی  تعداد لڑکوں کی تعداد سے لگ بھگ 3 کروڑ زیادہ ہے؟کیا یہ ایک بہت اہم وجہ نہیں کہ بہت سی لڑکیاں اچھے رشتے نہ ملنے کے باعث اپنی شادی کی عمر والدین کے گھر ہی میں گزار دیتی ہیں؟ کیا اس میں انکا کوئی قصور ہوتا ہے؟ یہاں ہم کچھ تلخ حقائق بیان کرنے جا رہے ہیں جن سے ممکن ہے کہ اکثریت متفق نہ ہو مگر یہ حقیقت سے قریب تر ایک تجزیہ ہے۔ لڑکیوں کی تعداد چونکہ لڑکوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ، سو جب ہر ایک لڑکا ایک ہی شادی کرتا ہے تو اس نظام کے مطابق بہت سی لڑکیاں گھر بسانے کے مواقع کھو دیتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔ مگر اس معاشرے میں لوگوں کی سوچ کا یہ دستور بن چکا ہے کہ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کو بہت بری نگاہ سے دیکھا جاتا اور ایک گناہ کے مترادف تصور کیا جاتا ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ موجودہ دور میں دوسرے روزگار کی غرض سے جا بسنے والے لڑکوں کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو بعد ازاں وہیں کی شہریت رکھنے والی کسی لڑکی سے شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوں پاکستان میں مزید کئی لڑکیاں شادی کے مواقع سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک مثبت سوچ کے تحت ہر صاحبِ استطاعت لڑکے کو اسکے گھر والے اور بیوی دوسری شادی کی اجازت دے دیں تو یہ مسئلہ بہت حد تک حل ہو سکتا ہے۔ ہم یہ ہر گز نہیں کہتے کہ پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق صلب کیے جائیں۔ لیکن اگر کسی شخص کی استطاعت ہو کہ وہ دو بیویوں کی تمام تر جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور ان دونوں کے درمیان وقت اور حقوق کی جائز اور منصفانہ تقسیم کی بھی اہلیت رکھتا ہوتو اسے دوسری شادی کی اجازت دے دی جانی چاہیے، تاکہ بہت سی لڑکیاں عزت کی زندگی گزار سکنے کے قابل ہو جائیں۔ مگر اس امر میں منصوبہ بندی کا خاص خیال رکھنا بے حد ضروری ہے، جیسے کہ بچوں کی تعداد۔ تاکہ سربراہ پر بوجھ نہ بن جائے۔ کیا ہم خود غرضی سے ہٹ کر ایسی مثبت سوچ نہیں سوچ سکتے؟ کیا ہم دوسروں کا کچھ بھلا کر دیں اور ہماری وجہ سے انکی زندگی میں خوشیاں آ جائیں تو غلط ہے؟ بات تو تلخ ہے مگر ہے سچائی کی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *