!بات تو سچ ہے

روزگار کی تلاش میں دوسرے مملک کو رُخ

پاکستان سے دوسرے ممالک جانے کا رجحان لوگوں میں کیوں بڑ ھتا جا رہا ہے؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا یہ پاکستان کے مستقبل کیلئے بہتر ہے؟ دیکھنے میں آرہا ہے کہ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں ہی طرح کے افراد کسی دوسرے ملک، جو کہ پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہو ، جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی چند اہم وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان میں نہ تو ہنرکی کمی ہے نہ ہی قابلیت کی، ہاں مگر اس ملک میں کمی ہے تو مواقع کی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو تعلیم حاصل کر لینے کے با وجود اچھا اور معیاری روزگار میسر نہیں آتا۔زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ نوکری اگر ملتی بھی ہے تو وہ تعلیم کے معیار کے مطابق نہیں ہوتی۔ جب تعلیم یافتہ افراد اس صورتِحال سے دو چار ہوتے ہیں تودل برداشتہ ہو کر آخر کار وہ اس ملک سے باہر اپنی تعلیم کے معیار کے مطابق کوئی نوکری تلاش کرنے میں سر گرداں ہو جاتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ روپے کی قدر میں آئے دن واقع ہونے والی کمی ہے۔ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔ ایسے میں اکثر غیر تعلیم یافتہ افراد بھی کسی ایسے ملک میں محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی کرنسی کی قدر و قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں زیادہ ہو، تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو بھیج کر انکی ضروریاتِ زندگی آسانی سے پوری کر سکیں۔ کیونکہ محنت مزدوری یا چھوٹے موٹے کام کاج کرنے والے لوگ ویسے بھی کم کما سکتے ہیں اور جب کمائی کم اور خرچ زیادہ ہو تو زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اپنے ملک کے لوگوں میں اہلیت بھی ہو، صلاحیت بھی، فن بھی اور قابلیت بھی، پھر بھی وہ اپنے ملک کی ترقی کی بجائے دوسرے ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے بڑھاؤ میں صَرف ہو رہی ہوں تو فائدہ کیا؟ جب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی خدمات اپنے ملک کی بجائے دوسروں کیلئے رہ جائیں تو ملک کیسے ترقی کیے مراحل طے کرے؟ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ جب ملکی حالات بہتر نہیں بنائے جائیں گے، مہنگائی بڑھتی ہی جائے گی، روزگار فراہم نہ کیا جائے گا، روپے کی قدر بڑھانے کے اقدامات نہ کیے جائیں گے تو پاکستان کی عوام دوسرے بہتر ممالک کا ہی رُخ نہ کرے گی؟ تو پھر پاکستان کا مستقبل کیسے روشن ہو سکتا ہے؟ بات تو سچ ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *