بات ہے اہمیت کی

انسانی سوچ خدا تعالیٰ کے احکامات سے بہتر نہیں ہو سکتی
کیا اسلام کے احکامات کے سے زیادہ انسان کی اپنی کوئی رائے یا فیصلہ ضروری ہو سکتا ہے چاہے وہ اچھے ارادے سے ہی لیا گیا ہو؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے سو اس میں دیا گیا ہر حکم بھی ہر لحاظ سے درست اور بہترین ہے؟ کیا انسانی عقل خدا کی جانب سے کیے گئے فیصلوں سے بہتر ہو بھی سکتی ہے؟ حال ہی میں ایک صاحب نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک عدد الیکٹرک واٹر کولر کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے ساتھ میں یہ پیغام لوگوں کو ارسال کیا کہ انہوں نے عیدالاضحیٰ پر قربانی کی نیت سے جو پیسے جمع کر رکھے تھے ان سے انہوں نے وہ پانی کا کولر ایک گزرگاہ پر لگوا دیا ہے تاکہ ہر آنے جانے والے راہ گزر کو ٹھنڈا پانی میسر آسکے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات صرف نیکی اور اچھی سوچ کی ہے سو انہوں نے اپنی سوچ کو مثبت رخ موڑ کر انسانوں کا خیال پہلے کیا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مخلوق خدا کی خدمت زیادہ بڑا جذبہ ہے۔ اس سے خدا خوش ہوگا اور اسکی خوشنودی ہی اصل مقصد ہے پھر چاہے جانور کی قربانی کر کے کی جائے یا انسانوں کا بھلا کر کے۔ انکی نظر میں انکے اس فعل سے انسانوں کے لئے اچھا ہوا ہے جو کہ جانور کی قربانی کی نسبت دوہرا فائدہ دے رہا ہے کہ نیکی بھی قبول اور خدا کی مخلوق کی ایسی خدمت بھی جو مسلسل ہوتی رہے گی۔ بہت سے لوگوں نے اس پر مختلف قسم کے سوالات اٹھائے۔ تقریباً تمام ہی تاثرات دینے والے اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ مخلوقِ خدا کی خدمت اپنی جگہ، کیونکہ وہ تو عام معمول میں بھی ہو سکتی ہے مگر جس بات کا حکم خدا تعالیٰ خود دے رہا ہے اسے پورا کیا جانا چاہیے۔ یہی بات نقطۂ فکر بھی ہے کہ بیشک جذبہ اور نیت قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اللہ کے پاس ہے، کہ وہ چاہے تو چھوٹی سی دل سے کی گئی نیکی پر نواز دے اور چاہے تو دکھاوے کی نیت سے پورا کیا گیا اپنا حکم بھی رد کر دے، مگر ہمارے لیے خود اسکا دیا گیا حکم اور اسکی دکھائی گئی راہ زیدہ ضروری ہونی چاہیے بہ نسبت اپنی عقل یا فیصلے کے، چاہے کتنا ہی سوچ سمجھ کر کیوں نہ لیا گیا ہو۔ کیا خدا تعالیٰ کی ذات کامل نہیں ہے؟ جب ہم سب اسکی ذات کو کامل مانتے ہیں تو خود کی سوچ سمجھ کو اسکی بات سے زیادہ اہم کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ یاد نہیں رکھنا چاہیے کہ ہمیں جس عقل پر ناز ہے وہ بھی خدا کی عطا کردہ ہے ، تو پھر وہ اسکے اپنے احکامات سے آگے ہے کیا؟ کیا باقی اچھے کام انسان بعد میں نہیں کر سکتا جب جب بھی اسکی استطاعت ہو؟ مگر جب ایک خاص موقع ایک خاص وقت مقرر کر دیا جائے تو اسی پرہمیں دوسری باتیں کیوں یاد آنے لگتی ہیں؟ قربانی سال میں صرف ایک بار ہوتی ہے جبکہ کوئی بھی دوسرا کسی کے بھلے کی نیت سے کیا گیا کام سال بھر نہیں ہو سکتا ؟ بات ہے اہمیت کی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *