بات ہے تسلیم کرنے کی

یومِ آزادی منانے کے غلط طور طریقے
ہم اپنے بچوں کو کیا تربیت دے رہے ہیں؟ جن طور طریقوں سے آجکل کی نوجوان نسل پاکستان کا یومِ آزادی مناتی ہے، کیا وہ درست ہے؟ یہ ملک ہم نے جتنی قربانیوں کی بعد حاصل کیا اور جس طرح حاصل کیا اس کا حال ہم اپنی تاریخ کے متعلق پڑھ کر اچھی طرح جانتے ہیں۔ لاکھوں بزرگوں ، جوانوں، خواتین اور بچوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہندوؤں سکھوں کے ظلم و ستم سہے۔ تب جا کر آزادی نصیب ہوئی۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اب ایسے ہیں جو پیدا ہی اس آزاد وطن میں ہوئے جسکا سہرا ہمارے قائد کی کوششوں اور ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کے سر ہے۔ اس لئے آجکل کی نوجوان نسل ان حالات کو کبھی محسوس ہی نہیں کر سکتی جن سے گزرنے کے بعد ہمیں یہ ملک حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں یومِ آزادی منانا تو آتا ہے مگر غلط طور طریقوں سے۔ آجکل یومِ آزادی کیسے منایا جاتا ہے؟ موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر نکال کر، اونچے اونچے باجے بجا کر، شور شرابا کر کے، پاکستانی جھنڈے تو موٹر سائیکلوں گاڑیوں پر لگا لیے جاتے ہیں مگر اندر گانے انڈیا کے چل رہے ہوتے ہیں۔ آزادی منانے کے نام پر لطف اندوزی اور سیر و تفریح کے لئے رات گئے تک شہروں کی سڑکوں پر آوارہ گردی کی جاتی ہے۔ اس قدر تیز رفتاری سے گاڑیاں اور موٹرسائیکل چلائے جاتے ہیں کہ کوئی دوسرا تو جیسے سڑک پر موجود ہی نہیں۔ کتنے ہی حادثات اسی وجہ سے 14 اگست کو رونما ہوتے ہیں۔ رات 12 بجتے ہی پٹاخوں اور آتش زنی کا وہ مظاہرہ ہو رہا ہوتا ہے کہ لوگوں کا سونا محال ہو جاتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کیا یہ جائز طریقہ ہے؟ کیا اس میں ذمہ د اری والدین کی بھی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آزادی کی صحیح تصاویر دکھا کر اسکی اہمیت اور اسکا شکر ادا کرنے کا درست طریقہ بتائیں؟ بجائے اسکے کہ اس دن ہم خدا کی نعمتوں اور اسکی دی گئی اس آزادی کا شکر بجا لائیں، نوافل ادا کریں اور ایسے کام کریں کہ جن سے اس ملک و قوم کی ترقی میں اضافہ ہو، ہم مزید ہی آلودگی کو بڑھانے والے کام کو جیسے نصب العین سمجھ کر کیوں کررہے ہوتے ہیں؟والدین بچوں کو کیا یہ نہیں سمجھا سکتے کہ ان فضول چیزوں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ایک ایک پودا لگا دیں جس سے آلودگی بھی کم ہو اور پاکستان کو مزید خوبصورت بھی بنایا جا سکے؟ اسی طرح جو رقم باجے ،پٹاخے اور دوسری فضولیات پر خرچ کی جاتی ہے اس سے کسی غریب کی مدد کر دی جائے تو بہتر نہیں؟ بات ہے تسلیم کرنے کی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *