بحث کیوں؟

چھوٹے روزگار والے لوگوں سے بحث
ہم غریبوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال کیوں نہیں رکھتے؟ ہم اس قدر تنگ نظر کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ہم ایسے مجبور لوگوں سے بحث کرنے لگتے ہیں جنکی روزمرہ کی تھوڑی سی کمائی ہماری خریداری پر منحصر ہوتی ہے؟ خرچ کرنے پر آئے انسان تو ہزاروں خرچ کر دیتا ہے اور جب کنجوسی دکھانے پر آئے تو چھوٹے موٹے کام کرنے والے غریب لوگوں سے بحث شروع کر دیتا ہے۔ ایک مثال یہ ہی لے لیں۔ ہمیں کپڑوں کی دکان میں کوئی بیش قیمت کپڑا نظر آ جائے اور دکاندار منہ مانگی قیمت وصول کرنے پر اڑ جائے تو ہم نہ چاہتے ہوئے بھی خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کرخرید لیتے ہیں۔ مگر انہیں کپڑوں کو جب پیکو کروانے لے جاتے ہیں تو اس غریب دکاندار سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں کہ کم قیمت پر ہمیں کام کر کے دے۔ یہی حالات سبزی والے، بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے اور دیگر پھیری والوں کی ہے کہ لوگ تھوڑے سے پیسوں کیلئے ان سے بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ یہ لوگ پہلے ہی معاشرے کے غریب اور کمتری کے احساس کیساتھ جینے والے طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔دوسری جانب اگر بات کی جائے گاڑیوں اور دیگر بڑی بڑی آسائشوں کی تو انکی خریداری میں ہم چند روپے تو کیا چند ہزار کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ ان پر تو ہم بے دریغ پیسے ضا ئع کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے ان چند روپوں سے کسی غریب کا کوئی بھلا ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ یہی بحث ہم بڑے بڑے کاروباری لوگوں سے کیوں نہیں کرتے؟ اس لئے کہ وہاں بات اعلیٰ چیزوں کی ہوتی ہے اور وہ لوگ ہماری خریداری کے مجبور نہیں ہوتے ؟ہر ظلم غریب کیلئے ہی کیوں رہ جاتا ہے؟ بحث کیوں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *