بدلنا پڑے گا

طبقات کا فرق

کیا خدا کے بنائے ہوئے سب انسان برابر نہیں؟کیا خدا کے بنائے ہوئے سب انسان برابر نہیں؟ اسلام ہمیں برابری اور مساوات کا کیا درس دیتا ہے؟ ہم کیوں کسی کو خود سے کمتر یا حقیر تصور کرنے لگتے ہیں؟ طبقات کا نظام زمانۂ جاہلیت سے چلتا آرہا ہے۔ ہم خود ہی کسی ذات کو اعلیٰ قرار دے دیتے ہیں اور کسی کو حقیر یا کمتر۔ پھر معاشرے میں انسانوں سے انکے طبقے اور ذات کی بنیاد پر ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ غریب لوگوں کو ہر معاملے میں تنگی اور احساسِ کمتری کا شکاررکھا جاتا ہے۔ ہر جگہ رشوت اور سفارش کا دور دورہ ہے جسکی وجہ سے غریب اپنے جائز حقوق سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ دولت اور عہدے کو سلام ہے، سو امیر ہر جگہ عزت پا لیتا ہے۔ غریبوں کیلئے لے دے کر چھوٹے چھوٹے کاروبار یا دوسروں کی نوکری اور غلامی رہ جاتی ہے۔ معاشرے کی تمام تر ٹھوکریں انکے نصیب میں آتی ہیں۔ ذات ، رنگ ، نسل کا فرق ہماری رگوں میں بسنے لگا ہے۔ جبکہ حضور ﷺ نے اپنی حیات میں ہی یہ صاف کہہ دیا تھا کہ ذات پات کی تقسیم محض اس لئے ہے کہ ہماری شناخت ہو سکے ورنہ اسکے علاوہ اسکا عزت یا برتری سے کوئی تعلق نہیں ، خدا کے ہاں سب برابر ہیں اور اسکے ہاں درجات کا معیار تقوٰی ہے۔ ہم انسان کسی کو کوئی درجہ دینے یا پرکھنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مگر دیکھنے میں ہر جگہ یہی آ رہا ہے کہ ہم نے خود ہی سے معیارات قائم کر لئے ہیں اور ہم ہر کسی کو انہیں معاشرے کے قائم کردہ معیارات کی بناء پر جانچنے لگتے ہیں۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ خطبۂ حجتہ الوداع کے موقع پر ہمارے نبیﷺ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا ؟ کیا واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں؟ کیا اس وقت بھی یہ ذات پات اور امیری غریبی کے فرق کو ختم کرنے کیلئے نہ کہا گیا تھا؟ خوشحالی تب تک نہیں آسکتی جب تک یہ سوچ اور نظریات بدلے نہ جائیں۔ بدلنا پڑے گا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *