بندر کی بلا طویلے کے سر

مجرم کوئی اور، سزا کسی اور کو
کسی کے غلط قدم کا خمیازہ کسی اور کو کیوں بھگتنا پڑتا ہے؟ ایسی کیا وجہ ہے کہ دشمنی یا ناجائز مطالبے کو پورا کروانے کیلئے کسی کے قریب ترین رشتے دار کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اسکے کیا کیا پہلو ہو سکتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ مگر آجکل دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ایک انسان کا بویا ہوا کسی دوسرے انسان کو کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ ایک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ اب آپ مثال لے لیں کہ اگر ایک شخص جرم کر کے فرار ہو گیا تو پولیس اسکے گھر کے کسی فرد خصوصاًکسی قریبی رشتہ رکھنے والے جیسے کہ ماں، باپ، بیٹا، بیٹی کو زبردستی ساتھ لے کا کر پولیس اسٹیشن بٹھا دیتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کیا جاتا ہے کہ جرم کرنیوالا مجبور ہو کر اس فرد کو چھڑانے کیلئے اپنی گرفتاری دے گا۔ اسی طرح ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ دشمنی ہوتی کسی اور سے ہے مگر اس سے بدلہ لینے کی خاطر نشانہ کسی اور کو بنایا جاتا ہے۔ دشمنی خاندانی پیمانے پر بھی ہو سکتی ہے،ذاتی بھی، کاروباری معاملات کے حوالے سے بھی ۔ مگر جس سے دشمنی ہوتی ہے اسے چھوڑ کر اسکے کسی عزیز از جان رشتہ دار کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جیسے کہ ایکسیڈنٹ کروا دیا جانا یا مار پیٹ کرکے قابلِ رحم حالت میں اسی جگہ بے یارو مددگار چھوڑ جانا۔ اکثر اوقات اگر دشمنی سنگین ہو تو بات جان سے مار دینے تک جا پہنچتی ہے۔ اسی طرح اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ قتل کوئی اور کرتا ہے مگر بدلے میں اس کے بیٹے یا بھائی کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ غلط کام کرتا ہے جیسے کہ چوری وغیرہ یا پھر وہ کسی کا نقصان کر دیتا ہے اور خود روپوش ہو جاتا ہے تو مطالبہ کرنے والے اسکے گھر والوں سے اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو کہ انہیں اپنی عزت بچانے کی خاطر کرنا پڑتا ہے۔ اب ایک اور پہلو سنیں۔ اگر کوئی شخص کسی کا مطلوبہ قرض یا حق ادا نہ کر رہا ہو تو اسکے بچے کو اغواء کر لیا جاتا ہے اور اسکی رہائی کی یہی شرط رکھی جاتی ہے کہ مطلوبہ رقم ادا کی جائے یا جو بھی کام مطلوب ہوتا ہے اسے کر کے دیا جائے۔ ایسا زیادہ تر کاروباری معاملات میں ہوتا ہے یا پھرتب جب کسی افسر سے کوئی نا جائزکام زبردستی کروایا جائے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ آجکل یہ کارروائی صرف مرد ذات کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ عورتوں یا بچیوں کو اغواء کیا جاتا ہے تاکہ عزت بچانے کی خاطر مجبوراً ہرحال ہی میں اپنا مقصد حاصل کیا جا سکے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟کیا ایسا کرنے والوں کے اپنے گھر میں عورتیں ، بچے اور عزیز ترین رشتے موجود نہیں ہوتے؟ ایسا سوچا ہی کیوں جاتا ہے کہ غلطی کسی اور کی ہو مگر ازالہ کوئی اور کرے؟آپ ہی بتائیں کہ اس میں کسی دوسرے بے گناہ کا کیا قصور ہوتا ہے چاہے وہ بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی، بیوی،ماں یا باپ ہی کیوں نہ ہوں؟ انہیں کس جرم کی سزا مفت میں ملتی ہے؟بندر کی بلا طویلے کے سر!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *