تمام گمنام سپاہیوں کو سلام

جاسوس کی زندگی
جاسوس کیسے کام کرتے ہیں؟ انکی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ اورانہیں کس طرح کے حالات میں رہنا پڑتا ہے؟ جاسوسی کا کام صدیوں پرانا ہے اوراب تک چلا آرہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کام کے طور طریقوں میں بھی جدت آگئی ہے۔مگر اب اسے باقاعدہ ملکی فوائد اور مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ایسے لوگ چنے جاتے ہین جو خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوں ۔ پھر انہیں باقاعدہ تربیت دے کر تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کیلئے اپنی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئیگراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ ہر ترقی یافتہ اور ترقی کی جانب رواں دواں ملک میں خاص ایجنسیاں موجود ہوتی ہیں جن میں سے کچھ سرکاری اور کچھ غیر سرکاری ہوتی ہیں۔ یہی ایجنسیاں ایسے لوگوں کو تلاش کر کے انہیں تربیت دیتی ہیں اور پھر مختلف مقاصد کیلئے انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق یہ ایجنسیاں باہم ملکر کام بھی کرتی ہیں اورمرکزی سرکاری ایجنسی کو ہی تمام اطلاعات پہنچا کر ملک و قوم کو نقصان سے بچایا اور فائدہ حاصل کروایا جاتا ہے۔تربیت یافتہ جاسوس دشمن ملک میں مقیم ہو کر وہاں کے راز جاننے اور اپنے وطن کے خلاف ہونے والی سازشوں کا پتا لگاکر اطلاعات اپنی ایجنسی کو پہنچاتے ہیں۔ مگر انکی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ انہیں کبھی بھی کہیں بھی بھیجا جا سکتا ہے اور انہیں حکم بجا لانا ہوتا ہے۔ کام کی نوعیت کے مطابق انہیں مختلف روپ دھارنے پڑتے ہیں جیسے کہ خواجہ سرا ،فقیر، دکاندار، ٹھیلے والا وغیرہ، تاکہ کوئی انکی اصلیت پہچان نہ سکے۔ ایک اور بہت اہم المیہ یہ ہے کہ انکے پاس ہر وقت زہر موجود ہوتا ہے جو کہ زیرِحراست آنے اور اذیت برداشت کی حد سے باہر ہو جانے کی صورت میں انہیں نگل لینا ہوتا ہے تاکہ اپنے ملک کا کوئی راز دشمن تک نہ پہنچ سکے جس سے کہ وہ جاسوس آشنا ہے۔ جاسوسوں کو اپنا گھر بار اور خاندان چھوڑ کرہر وقت ایک تلخ زندگی گزارنا پڑتی ہے۔پھر بھی حالات کی ہر سختی برساشت کرکے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ وہ ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں جو انکے ملک کیلئے فائدہ مند ہو۔ کیا ہمیں انکی قربانیوں کی قدر نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ایک تلخ زندگی اپنی شناخت چھپا کر اس ملک کی ترقی کیلئے گراں قدر خدمات سر انجام دیتے ہوئے گزار دیتے ہیں؟ کیا ہم کبھی انکی ان خدمات کا صلہ دے بھی سکتے ہیں جو ہماری حفاظت کیلئے خود کو مصیبت اور خطرے میں ڈالے رکھتے ہیں اور پھر بھی خود کوگمنام رکھ کر کوئی صلہ نہیں مانگتے؟سلام ایسے سب گمنام سپاہیوں کو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *