تنقید برائے تنقید

انسان فرشتہ نہیں ہو سکتا

اگر کوئی کچھ اچھا عمل کر رہا ہو تو ہم بجائے اسکو سراہنےاگر کوئی کچھ اچھا عمل کر رہا ہو تو ہم بجائے اسکو سراہنے کے‘ اسے تنقید کا نشانہ کیوں بنانے لگتے ہیں؟ انسانی فطرت دن بہ دن پستی کی جانب کیوں جا رہی ہے؟تنقید برائے تنقید آج کے دور کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کسی شخص کو کوئی نیکی والایا مثبت عمل کرتے دیکھیں تو بجائے اسکا حوصلہ بندھانے کے اس شخص کو تنقید کا نشانہ بنانے لگتے ہیں کہ تم تو یہ سب دکھا وے کیلئے کر رہے ہو، تم کون سا نیک انسان ہو، تم نے آج تک کون سا اچھا کام کیا جو اب یہ یاد آگیا، تم نے فلاں وقت میں فلاں غلط کام کیا تھا اب نیکی کی یاد کیسے آگئی، تمہاری زندگی تو گناہوں سے بھری پڑی ہے پھر اس ایک عمل سے کیا کما لو گے، اور اسی طرح کی کئی مزید باتیں یا تو خود اس شخص ہی کو سننے کیلئیمل جاتی ہیں یا پھر اسکی غیر موجودگی میں اسکی ذات کی برائیاں اور منفی پہلو گنوائے جا رہے ہوتے ہیں۔ ایسی تنقید کرنے والوں سے کوئی پوچھے کہ تم بہتر ہو یا وہ شخص جو کم از کم اب تو نیکی کا کام کر رہا ہے، جبکہ تم تو اس سے بھی عاری ہو۔فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ کون غلط نہج پر ہے، ایک گناہگار جو کم از کم اب ایک اچھا عمل کرنے کی سوچ لے یا پھر ایسی حوصلہ شکن باتیں کرنے والے۔ ایسے لوگ محض تنقید کے شوقین ہوتے ہیں۔ وہ اگر اس معاشرے میں عزت پا بھی لیں تو خدا کے ہاں تو عزت کا معیار تقوٰی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس گناہ گار کی عزت اسکی نیت کی بناء پر خدا تعالیٰ کے ہاں ایک چھوٹے سے عمل سے ہی ایسے لوگوں کی نسبت کئی زیادہ ہو جائے جبکہ ایسے تنقید کرنے والوں کے بڑے بڑے اعمال بھی قبولیت کا شرف حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں۔ اگر کوئی بھولا بسرا گناہگار اچھا بننے اور کچھ اچھا کرنے کا سوچ رہا ہو تو کیا اسکے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہیے؟ کیااسکی تعریف کرکے اسکا حوصلہ نہیں بڑھانا چاہیے تاکہ معاشرے کی برائیاں کم ہو سکیں؟ آخر کوئی انسان کسی دوسرے کے اعمال کا تجزیہ کرنے اور ااسکی بنیاد پر اسے اچھا یا برا قرار دینے والا کون ہوتا ہے جب سزا اور جزا اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے؟ انسان کیوں دوسروں کی غلطیاں نظر انداز کرنا نہیں سیکھتا؟ کیا وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ایک ولی کا بھی کوئی ماضی تھا اور ایک گناہگار کا بھی مستقبل ہے؟غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں مگر کیا اہمیت یہ بات نہیں رکھتی کہ کون سیدھی راہ اپنا لیتا ہے؟ وہ جو تنقید کرتے ہیں وہ خود بھی غلطیاں کرتے ہیں تو دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے کیوں بھول جاتے ہیں؟ انسان فرشتہ نہیں ہو سکتا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *