خاتمہ کیسے ممکن؟

لڑکیوں پر تعلیم کے حصول پر پابندی کی فرسودہ روایت
کیا لڑکیاں انسان نہیں ہوتیں؟ انہیں کیوں اکثر ہی بنیادی انسانی حقوق سے بھی دستبردار کر دیا جاتا ہے؟آخر بچیوں کو تعلیم حاصل نہ کر دینے اور ان پر بے جا پابندیاں عائد کرنے کی منطق کیا ہے؟ یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ ہے کہ عورت کو اسلام کی طرف سے برابر کے حقوق مل جانے کے بعد بھی کچھ لوگ انہیں خاطر میں لانے یا انکی پاسداری کرنے سے عاجز نظر آتے ہیں۔ تعلیم اور علم ہر جگہ پھیل تو گئے مگر شاید شعور مکمل طور پر اثر انداز نہ ہو سکا یا پھر لوگ اسے اپنانا چاہتے ہی نہیں کیونکہ انہیں اپنی انا اور اپنی صدیوں سے چلی آتی فرسودہ روایات کا پاس رکھنا زیادہ اہم لگتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بنائی جانے والی یہ انسانی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی روایات آج بھی کئی زندگیاں تباہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک فکر طلب مسئلہ لڑکیوں اور بچیوں کو تعلیم نہ دلوانے کا بھی ہے۔ اب تک ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سوچ کے مالک ہیں کہ عورت کا تعلیم حاصل کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ان میں زیادہ تعداد تو ایسے لوگوں کی ہے جو خود ان پڑھ ہیں اور تعلیم کی حیثیت و اہمیت کو سمجھتے نہیں۔ وہ اگر تعلیم دلاتے بھہی ہیں توصرف لڑکوں کو تاکہ وہ مستقبل میں اچھا روزگار کما سکیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی ایسے تعلیم یافتہ افراد موجود ہیں جنکی سوچ پر تعلیم کوئی بھی اثر مرتب نہ کر سکی۔ وہ بذاتِ خود تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی علم کی قدرو قیمت اور اہمیت سمجھنے سے عاری ہیں۔ انہیں بس فکر ہے تو اپنی لگی بندھی فرسودہ روایت کی کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کر کے آخر کرنا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو یہی لوگ خود تعلیم دلاتے ہیں اور اچھی سے اچھی تعلیم دلاتے ہیں، کوئی کسر نہیں رکھی جاتی مگر بیٹیوں بہنوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں صرف گھر ہی سنبھالنا ہے سو علم انکے کسی کام کا نہیں۔کس سوچ کے تحت کچھ پڑھے لکھے افراد بھی انہی فرسودہ روایات کی پاسداری کرتے نظر آتے ہیں؟اگر تعلیم آپکو شعور ہی نہ دلا سکے اور آپ تنگ نظری کا ہی مظاہرہ کرتے رہیں تو فائدہ ایسی تعلیم کا؟ ہمارے اس معاشرے میں عورت کو کبھی کیوں وہ مقام اور حقوق فراہم نہیں کیے جاتے جو کہ اسے اسکے مذہب نے دے رکھے ہیں؟ جن لوگوں میں شعور کی کمی ہے انہیں قائل کرنے اور بچیوں کو انکے حقوق دلانے کیلئے آخر کون آواز بلند کرے گا؟اس فرسودہ سوچ اور روایت کا خاتمہ آخر کیسے ممکن ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *