داد کا حصول جان سے پیارا؟

سیلفی کا بڑھتا جنون
سیلفی کیا ہے؟ اور اسکا انتہاء درجہ جنون انسانی جان کیسے لے رہا ہے؟ جیسے کہ کم و بیش ہم سب ہی جانتے ہیں کہ سیلفی کا لفظ دورِ حاضر میں خود ساختہ لی گئی تصویر کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ باقاعدہ کیمروں کی مدد سے ایک دوسرے کی تصاویر لیتے تھے مگر ٹیکنالوجی کی ترقی نے اب یہ کام بھی آسان کر دیا۔ آجکل تقریباً تمام ہی کم سے کم قیمت موبائل فونز میں نہ صرف تصویر لینے کیلئے کیمرہ موجود ہوتا ہے، بلکہ اب تو جدت کے شاہکارسمارٹ فونز میں آگے کی جانب بھی کیمرہ موجود ہوتا ہے جسے ’’فرنٹ کیمرہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اس کی بدولت ہم اپنی تصاویر خود کو موبائل اسکرین پر دیکھتے ہوئے بھی بنا سکتے ہیں۔ تصاویر لینے کا یہ جنون جدید دور کی سوغات ہے۔ پہلے پہل لوگ صرف کسی خاص موقع پر تصاویر لے کر اسے کیمرے کی آنکھ سے یادگار کے طور پر محفوظ کر تے تھے مگر اب رازانہ کی بنیاس پر کئی کئی تصاویر لینا اور پھر انہیں سماجی روابط کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر دوسروں کیساتھ بانٹنا بالخصوص نوجوان نسل کی ایک روایت بن گئی ہے۔ اس دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہتا ہے جس کیلئے اچھے سے اچھی جگہ اورسٹائل تلاش کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں سے ڈھیروں داد وصول کی جا سکے۔اسی کوشش میں کچھ لوگ ایسی خطرناک پر ایسے کرتب کرکے سیلفی لیتے نظر آتے ہیں جو انکی جان تک لے سکتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ واقعات حال ہی میں منظرِ عام پر آئے ہیں جن میں رومانیہ،پولینڈ،میکسیکو،روس، آسٹریلیا،جنوبی افریقہ،فرانس،امریکہ،پر تگال اور کوریا سے تعلق رکھنے والے کچھ جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوں دنیا کے پاس انکی بنائی گئی سیلفیز پر داد دینے کی بجائے صرف انکی موت کا افسوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنون ہمیشہ ہی مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اسکی زندہ مثال ان جوانوں کی موت کی صورت میں بھی ہمارے سامنے ہے۔ کیا تعریف کا حصول زندگی سے زیادہ ضروری ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جبکہ ہم نتائج سے آگاہ ہوں؟ کیا ایسی خطرناک جگہوں پر جا کر خطرناک کرتب کرکے تصاویر بناتے ہوئے ایک بار بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اگر اچنک ہی کوئی بھی ایسا حادثہ پیش آگیا جس سے جان ہی چلے جائے تو پھر ان سیلفیز کا کوئی فائدہ رہ جائے گا کیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *