دشمنی مٹانے میں کون پہل کرے گا؟

بیرونی مداخلت ___ نقصان دوطرفہ
کیا کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تنقید کا حق ہے جب تک کہ وہ غیر قانونی یا انسانی حقوق کی سلبی کے نہ ہوں؟ نظریاتی دشمنیاں آخر کب تک اس خطے کے ممالک پر اثر انداز ہوتی رہیں گی؟ ہندوستان کو پاکستان کا روایتی حریف شمار کیا جاتا ہے۔اسی نظریے کے پیشِ نظر پاکستان اپنے اہم مسائل پر توجہ دینے کی بجائے دشمنی اور سیاست کی یہ جنگ جیتنے میں اپناقیمتی وقت ضائع کر رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کو اپنے ارد گرد کے ماحول سے متعلق مثبت سوچ اور مثبت تعلقات رکھنے کی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں یونائیٹڈسٹیٹس اور کینیڈا کے اس کراس بارڈر اشتراک سے سبق حاصل کرنا چاہیے جو کہ انہوں نے باہمی مفاد میں اضافے اور طاقت کے بڑھاؤ کی غرض سے کیا ہے۔ اگر دوسرے ممالک ایسا کر سکتے ہیں تو کیا پاکستان اور ہندوستان اپنے باہمی اختلافات بھلا کر اپنے اپنے ملک کی سلامتی ، امن اور طاقت کیلئے یکجہتی کا اظہار نہیں کر سکتے؟ پاکستان کبھی بھی ہندوستان کے ساتھ جاری اپنی سیاسی لڑائی اور نامی گرامی دہشت گردی کے خلاف جاری یو۔ایس وار کے ہوتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک متلقہ حقیقت ہے۔ پاکستان کو اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتِ حال رہے۔ جب امن رہے گا اور بلاوجہ کے سیسی اختلافات راہ میں حائل نہیں ہوں گے تو ملک کی ترقی کیلئے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بہتر طور پر سوچا جا سکے گا اور اقدامات کیے جا سکیں گے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اسی معاملے کی ایک کڑی پاکستان کے اہم معاملات میں انڈیا کی بے جا مداخلت ہے۔ کیا انڈیا کو اہنے ملک کی غربت اور دوسرے اہم مسائل کے حل پر دھیان دینے سے زیادہ یہ ضروری ہے؟دشمنی کی یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟اور اسکے نتائج عوام کے نقصان کی صورت میں کب تک سامنے آتے رہیں گے؟ اس دشمنی کو مٹانے اور دونوں مملک کی عوام کو اسکا شکار ہونے سے کون بچائے گا؟ کون پہل کرے گا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *