ذمہ داری کس کی

توانائی کا بحران
کیا آپ پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے ذرائع سے آشنا ہیں؟ لوڈشیڈنگ ہماریے روزمرہ معموعلات پر کیا اثرات مرتب کر رہی ہے؟ حکومت اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے؟ گزشتہ دس سال سے بجلی کا بحران ایک ایسا مسئلہ ہے جو پاکستان کے مسائل میں سرِ فہرست رہا ہے۔ آنے والی ہر حکومت نے ہی اسکے خاتمے کا دعویٰ اور وعدہ کیا لیکن نبھانے سے کوتاہ رہے۔ پاکستان میں بجلی دو پبلک سیکٹر یوٹیلٹیز کے ذریعہ پیدا کی جاتی، تبدیل کی جاتی اور تقسیم کی جاتی ہے جن مین سے ایک واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ہے جو کہ کراچی کے علاوہ پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسری کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے۔ای۔ایس۔سی) ہے جو کہ کراچی اور اسکے گردونواح میں بجلی کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں اس وقت توانائی کی پیداوار کے 16 جداگانہ ذرائع موجود ہیں جو کہ واضح اور اہم طورپر بجلی کی پیداوار میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ کئی سالوں سے پاکستان میں بجلی کی کھپت اور اسکی پیداوار کے بیچ توازن اور تناسب قائم کرناایک مسئلۂ درپیش رہا ہے۔اس وقت بھی بجلی کا بحران ایک بڑے چیلنج کی صورت میں ہے جسکا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ صرف غریب عوام ہی متاثر ہو رہی ہے۔ استطاعت رکھنے والا طبقہ یو،پی،ایس اور جنریٹر کی خدمات حاصل کر رہا ہے جبکہ ہمارے حکمران اس قید سے آزاد ان حالات میں اے۔سی کی ٹھنڈک کا مزہ لے رہے ہیں جن میں کہ غریب کیلئے ایک سادہ پنکھا نہ چلنے کے باعث سانس لینا بھی محال ہے۔ سیاسی غیر استقامت اس سلسے کی ایک اہم کڑی ہے۔ بجلی کی مانگ میں اضافہ اور پیداوار میں کمی ہی ہوتی جا رہی ہے۔ رات کے وقت روشنی نہ ہونے اور لوڈشیڈنگ کی صورت میں بچوں کی پڑھائی کا خاص حرج ہوتا ہے۔ بجلی نہ ہونے پر مشین نہیں چلتی، نہ صرف کاروبار میں مندی رہتی ہے بلکہ گھر کے کئی کام کاج رک جاتے ہیں۔آخر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کب کی جائے گی؟ کیا توانائی پیدا کرنے والے وسائل کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا موجودہ وسائل کو صحیح طور بروئے کار لانے کی؟ کیا کبھی بجلی کی کھپت کے حساب سے اسکی پیداوار کو ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ذمہ داری کس کی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *