رحمت بھی، زحمت بھی

ٹیکنا لوجی کی ترقی
بصری اور سمعی بیماریاں اور مسائل اس قدر بڑھتے کیوں جا رہے ہیں؟ کیا اس میں ہاتھ ہماری سہولت پسندی کا بھی تو نہیں؟ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں ہماری زندگیوں کو سہل اور آرام دہ بنا دیا ہے وہیں ہمیں بہت سے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دن بہ دن بڑھتی گاڑیوں اور مشینوں کے بے ہنگم شور سے سماعت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے ہی کمپیوٹر، موبائل اور لیپ ٹاپ کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ لوگ اپنا قیمتی وقت نہ صرف فضول سرگرمیوں میں ضائع کر دیتے ہیں بلکہ انکے بے جا بڑھتے استعمال سے نظر کی کمزوری اور نا بینا پن جیسے مسائل میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سے بخارج ہونے والے دماغ پر بھی غیر محسوس طریقے سے اثرات مرتب کرتی ہیں اور کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہی ہیں۔ مسلسل لئپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے استعمال سے پٹھوں میں درد رہنے لگتا ہے۔ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی تعیشات کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی کو سہل بناتے بناتے انہوں نے ہماری جسمانی سرگرمیوں میں بے حد کمی کر دی ہے اور ہم آرام پسندی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسکے باعث جسمانی کمزوری اور صحت کی خرابی جنم لے رہی ہے۔ فریج اور دیگر مشینوں سے نکلنے والی گیسوں اور گاڑیوں ،فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے سانس اور الرجی کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ زہریلی گیسیں انسانی صحت اور اوزون کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی طرح اگر بجلی سے چلنے والی چیزوں کے معاملے میں احتیاط نہ برتی جائے تو کرنٹ دو پل میں انسانی جسم کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے۔ کیا ان نقصانات کے پیشِ نظر اپنے نظریات اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں؟ سہل پسندی کے ساتھ نقصانات کو بھی شمار نہیں کیا جانا چاہیے؟ کیا ان تعیشات کا عادی محض اس حد تک نہیں ہونا چاہیے کہ آپکی صحت بھی ٹھیک رہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *