ضرورت ہے توجہ کی

پاکستان میں بڑھتی مہلک بیماریاں
پاکستان میں مہلک بیماریوں کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ کیا ہے؟ ان میں کون کون سی بیماریاں شامل ہیں؟ اور ان بیماریاں کی موجودہ شرح کیا ہے؟ کینسر ، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی/ایڈز، ذیابطیس، دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر ایسی بیماریاں ہیں جوپاکستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آبادی کی ایک بڑی تعداد ان کا شکار ہو رہی ہے۔اس امر کی سب سے پہلی اور اہم وجہ ٹینشن ہے۔ موجودہ دور میں کوئی بھی مکمل طور اپنی زندگی اور حالات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔ ہر شخص مزید سے مزید پانے کی دوڑ میں آگے رہنا چاہتا ہے۔ بڑھتی ٹیکنالوجی اور ترقی کیساتھ ساتھ انسانی زندگی بھی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔دوسری اہم وجہ دولت کا منسب درجہ تک میسر نہ ہونا ہے۔ ان بیماریوں کا مستقل علاج انکے خاتمے کیلئے ضروری ہے جو کہ کافی خرچہ مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب اور اوسط طبقے کے افراد علاج کروانے سے قاصر رہتے ہیں ۔ اگر شروع کر بھی دیا جائے تو معیاری ڈاکٹر سے نہیں کرو اسکتے یا پھر کہیں بیچ راہ پیسوں کی کمی کے باعث ترک کرنا پڑ جاتا ہے۔ تیسری بڑی وجہ پاکستان کے اکثر ہی علاقوں میں علاج کی ناکافی سہولیات ہیں۔ بہتر علاج میسر ہی نہیں آتا۔ بڑے شہروں میں کچھ ہسپتالوں میں مطلوبہ مشینز اور دیگر اشیائے ضروریات موجود ہوتی ہیں مگر اکثر چھوٹے ہسپتالوں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں یا تو میسر ہی نہیں ہوتی یا پھر اس حالت میں پائی جاتی ہیں کہ نا قابلِ استعمال ہوتی ہیں۔ چوتھی وجہ اس ملک کے موجودہ حالات ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو پریشانی کا سامنا نہ کر رہا ہو۔بے روزگاری، چوری ڈکیتی، حقوق کی صلبی اور حق تلفی، مہنگائی ، غربت سب ہی اس ضمر میں پیش پیش ہیں۔ اس صورتِ حال میں ٹینشن تو ہونی ہی ہے۔ اور ٹینشن بیماریوں کی جڑ ہے۔ دیگر اہم وجوہات نشے کی بڑھتی شرح ، نامناسب غذا، صفائی کی کمی یا نامناسب انتظام، جراثیم کی منتقلی، غیر ضروری ادویات کا استعمال، شعور کی کمی اوراپنا خیال رکھنے میں کوتاہی یا لاپرواہی برتنا وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں مختلف منعقد کردہ سرویز کے مطابق پاکستان میں 26 فیصد لوگ ذیابطیس کا شکار ہیں، ہر سال 150,000 کینسر کے کیسز سامنے آرہے ہیں، 18فیصد نوجوان اور 33فیصد 45سال سے زائد عمر کے افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں، جبکہ 132,000 کی تعداد میں آبادی ایڈز کا شکار ہے۔کیا اس شرح پر قابو پانے اور اسے کم کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیا یہ ایک سنجیدہ مسئلہ نہیں؟ کیا پاکستان کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر کے ٹینشن میں کمی نہیں لا جاسکتی؟ کیا ان بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہے؟ ضرورت ہے توجہ کی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *