ضرورت ہے تو سوچ بدلنے کی

خوشحالی کیوں نہیں آتی؟
کیا وجہ ہے کہ ہمارا ملک اور ہمارا معاشرہ خوشحالی سے محروم ہے؟ کیا اس میں ہماری سوچ اور ہمارے اعمال کا عمل دخل ہے؟ جی ہاں!خوشحالی تب تک اس ملک اور معاشرے کا مقدر نہیں بن سکتی جب تک ہم اپنی ذہنیت اور اپنی سوچ کو آلودگی اور تنقید برائے تنقید سے پاک نہیں کر لیتے۔ حال ہی کی ایک جیتی جاگتی مثال یہ ہے کہ نئی حکومت کو حلف اٹھائے ابھی چار دن بھی نہ گزرے تھے کہ مخالف جماعتوں کی جانب سے بیان جاری ہونے لگے کہ ہمیں تبدیلی نظر نہیں آرہی۔اور اس امر میں سب سے پیش پیش سابقہ حکومت سے تعلق رکھنے والی جماعت تھی۔ حالانکہ پوچھا جائے تو جو کام آپ پچھلے پانچ سال میں نہ کر سکے انکا عمل میں لایا جانا آپ پانچ دن میں امید کرتے ہیں؟ پھر بھی اگر موازنہ کیا جائے تو نئی حکومت نے پانچ دن میں ہی ملکی ترقی اور خوشحالی سے منسوب تین چار اہم فیصلے لے کر اپنی کارکردگی انکی نسبت کافی بہتر ظاہر کرنی شروع کر دی۔ مگر اسے نا عقلی کہیں یا کچھ اور، تنقید تو جیسے ہر کسی کا فرضِ اول ہے۔ سوچ بدلنے کو کوئی تیار نہیں۔ اسی طرح بات کی جائے پیشے یا کاروبار کی تو ہمارے ملک میں غربت، طبقے اورذات پات کو ہمیشہ مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ یہ نہیں پرکھا جاتا کہ ایک انسان میں کیا کیا ہنر اور قابلیت موجود ہے۔ غریب لوگوں کو ہمیشہ چھوٹے پیشوں سے وابستہ رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے اعلیٰ اقسام کے کاروبار اور تجارت میں امیر لوگوں کی ہی خدمات لی جاتی ہیں۔ جباس ملک کے لوگوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ہی نہیں جائے گا اور انہیں موقع دیا ہی نہیں جائے گا تو تبدیلی کی امید کیسی؟ کسی کی قابلیت کسی ایک کاروبار کو کسی شخص کی پہچان تصور کر لیا جاتا ہے اور اسکی نسلوں کو بھی اسی کاروبار میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے ہم تنگ نظری کہیں یا سوچ کا قصور؟ قصور اس میں اگر اس معاشرے کے لوگوں کی ذینیت کا نہیں تو کس کا ہے؟ ہم کیوں مثبت سوچ اور خیالات کی طرف نہیں جاتے؟ جب صورتِ حال یہ ہے تو ملک کیسے ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے؟ جب لوگ اپنی سوچ اور فطرت سے ہٹنے کا ارادہ اور کوشش ہی نہ کریں تو تبدیلی آ کیسے سکتی ہے؟ تبدیلی نہیں آئے گی تو یہ ملک ایک خوشحال ملک کیسے کہلا سکتا ہے؟ ضرورت ہے تو سوچ بدلنے کی !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *