عدم توجہی کا نتیجہ

نوجوان اورنئی نسل عزت سے بے بہرہ

کیا آپ جانتے ہیں کہ موجودہ نوجوان نسل اور بچے بڑوںکیا آپ جانتے ہیں کہ موجودہ نوجوان نسل اور بچے بڑوں کو عزت دینے سے عاری کیوں ہیں؟ کہیں اسکی وجہ آپ خودتو نہیں؟ کیا آپ اپنے بچوں کو توجہ دے رہے ہیں؟ دورِ حاضر کا ایک بہت بڑا امیہ یہ ہے کہ انسانی زندگی نہایت مصروف ہو چکی ہے۔ ہر کوئی مشینی زندگی گزارتے ہوئے ہر وقت مصروف یا کسی مسئلہ کا شکار ہے۔ انہی مسائل کے حل میں خود کو الجھائے رکھ کر ہم اپنے بچوں کیلئے وقت نہیں نکال پاتے ۔ اور یوں وہ معصوم بچے اس عمر میں خود بخود ہی سیکھنے لگتے ہیں جس عمر میں انکی تربیت کرنی چاہیے اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھائی جانی چاہیے۔اس بات سے ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں کہ کچی عمر میں جو بھی تجربہ ہو، اسکا اثر تا عمر انسان کے ساتھ رہتا ہے اور ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ وہ انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی انسان کی سوچ اسی نہج پر چلنے لگتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جب بچوں پر توجہ اور انہیں وقت نہیں دیا جاتا تو وہ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات سے سیکھنے سمجھنے لگتے ہیں اور خود ہی تجربات کرنے لگتے ہیں۔ یہ تجربات ان میں خود اعتماد ی کی زیادتی پیدا کر دیتے ہیں اور وہ ہر خوف سے آزاد ہونے لگتے ہیں۔ پھر انہیں کچھ برا بھی برا محسوس نہیں ہوتا کیونکہ انہیں کسی نے اچھے اوربرے کی تمیز سکھائی ہی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عمر سے پہلے ہی وہ اپنی عمر سے زیادہ کی باتیں سوچنے لگتے ہیں اور اس قدر بے باک ہو جاتے ہیں کہ انہیں کسی بڑے کی عزت کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا ۔ والدین تو ایک طرف قصوروار، اس میں کافی حد تک ہاتھ ہمارے تعلیمی نظام کی نااہلی کا بھی ہے۔ اساتذہ کو بس اس بات پر مجبور کیا جاتا رہتا ہے کہ نصاب وقت کے اندر مکمل کروا دیا جانا چاہیے۔ یوں بچوں کی اخلاقی تربیت کا وقت ہی انکے پاس نہیں رہتا۔تعلیمی نظام کے موجودہ اصول کے مطابق اگر کوئی بچہ بدتمیزی کرے بھی تو اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ ایسے میں جب ایک بچہ پہلے ہی گھر سے عدم توجہی کا شکار ہو کر بگڑ چکا ہوتا ہے اور صرف زبانی کلامی ڈانٹ کا اس پر اثر نہیں ہو رہا ہوتا توایسے میں استاد بھی اسکی تربیت نہیں کر پاتا کیونکہ اسے اختیار ہی نہیں دیا جاتا کہ بچے کی اصلاح کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھا سکے۔ جب تک والدین کو اپنے بچوں کے بگاڑ کا اندازہ ہوتا ہے تب یہ مقولہ درست ثتابت ہو رہا ہوتا ہے کہ ’’اب پچھتائے کیا ہوؤت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت‘‘۔ کیا آپ بچوں کو دوسروں کی عزت کرنا سکھا رہے ہیں؟ انہیں اخلاقی تعلیم اور تربیت صحیح سے فراہم کر رہے ہیں یا نہیں؟ یا پھر آپ بھی اپنے بچے کی تربیت کے معاملے میں کل کو اپنی نااہلی پر شرمندہ ہونا چاہتے ہیں؟ یہ سب ہے عدم توجہی کا نتیجہ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *