قربانی یا دکھاوا

افسوس ہے
ہمارے ایمان اتنے کیوں کمزور پڑ چکے ہیں کہ ہم نیک کام بھی دکھاوے کی نیت سے کرتے ہیں؟ کیا اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے؟ اس بگڑتے معاشرے میں دکھاوا ایک بہت بڑی روایت بن چکا ہے جیسے۔ امیر اور پیسہ رکھنے والے لوگ آئے دن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی طاقت و دولت کا زیادہ سے زیادہ رعب جمانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ انکے لیے دنیا کی مہنگی سے مہنگی چیزیں اور آسائشیں ہی سب کچھ ہیں اور وہ مقابلے میں رہتے ہیں کہ کس کے پاس سب سے اعلیٰ اور اچھے سے اچھے معیار کی تعیشات موجود ہیں۔ اسی کوشش میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے ہر عمل کو نمود و نمائش کا ایک ذریعہ تصور کر لیتے ہیں۔ صد افسوس کہ حتیٰ کہ اب قربانی کے معاملے میں بھی نمائش کا خیال رہتا ہے۔ جس کے پاس جتنا بڑا جانور قربانی کیلئے موجود ہوگا وہ اتنا ہی خود پر فخر محسوس کرے گا اور اتنا ہی اترائے گا۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں آگے سے آگے نکلنے کی سعی میں رہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ خدا کے ہاں خلوصِ دل قبول ہوتا ہے، دکھاوے کی نیت سے کیے گئے ہر عمل کو روزِ قیامت مسترد کرکے انسان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔ ایسی کسی نیکی کا کوئی فائدہ نہ رہ جائے گا۔ اپنے جانور کی نمائش کیلئے اسے حریفوں کو دکھا کر فخر سے اسکی قیمت بتا کر جتانا کیا جائز ہے؟ کیا قربانی اس لیے کی جاتی ہے؟ کیا اس عمل کا کوئی اجر مل بھی سکتا ہے؟ اب ہم اپنے دین کو بھی دکھاوے کی نیت سے ظاہر کریں گے؟ افسوس ہے !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *