لالچ ہی لالچ

آخرت کا کیا؟

ہم کیوں لالچ کا اس حد تک شکار ہو چکے ہیں کہ ہر کسیہم کیوں لالچ کا اس حد تک شکار ہو چکے ہیں کہ ہر کسی کا لحاظ کھو چکے ہیں؟ یہاں تک کہ اپنے سگے رشتوں کو بھی نہیں بخشتے؟ کیا انسان اس دنیا سے دنیا کی کوئی چیز لے کر بھی جا سکتا ہے؟تیزی سے بڑھنے اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے والی ایک بہت بڑی برائی لالچ ہے۔ اس دور میں ہر سو میں سے اسی سے پچاسی افراد لالچ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت حاصل کرنے کے لئے ہر گناہ ہر برائی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔شائد کہ ان لوگوں کے اندر خدا کے عذاب کا خوف بالکل ختم ہو چکا ہے۔ آئے دن ہم ایسے واقعات سنتے ہیں جن میں دولت اور پیسے کے حصول کیلئے اپنوں کا ہی قتل کر دیا جاتا ہے،بے گناہوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں، یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا ہے، رشوت لی جاتی ہے، ڈاکہ زنی کی وارداتیں ہوتی ہیں، لوگوں کو دن دہاڑے سرِ عام لوٹ لیا جاتا ہے، بچوں کو اغواء کرکے تاوان وصول کیا جاتا ہے، حقداروں کے حقوق غصب کر لیے جاتے ہیں، اور ایسی ہی کئی دیگر خبریں اور واقعات سننے کو ملتے ہیں۔کیا ان سب معاشرتی برائیوں کی ایک بنیاد لالچ نہیں ہے؟ہر دوسرا شخص اندھا دھند پیسے کے پیچھے بھاگتا نظر آ رہا ہے مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ پیسہ آخرت میں کسی کام کا نہیں، وہاں تو صرف اعمال اور نیتوں کی بنیاد پر سزا یا جزا دی جائے گی۔ یہ آجکل کے انسان کی فطرت بنتی جارہی ہے کہ جتنا ملتا ہے اس سے زیاد ہ پانے کی ہوس میں رہتا ہے بجائے کہ عاجزی سے کام لے اور جتنا خدا تعالیٰ اسے عزت سے دے رہا ہے اس پر صبر شکر کرے۔دولت کی ہوس میں مال کے پیچھے بھاگنے سے بہترہم نیکیوں اور اچھے اعمال کی طرف راغب کیوں نہیں ہوتے کہ وہ ہماری آخرت کا ذخیرہ ہیں؟کیا یہ مال و دولت آخرت میں ہمیں بچا لیں گے یا ہمارے کسی کام آئیں گے؟ کیا دنیا کی یہ تمام آسائشیں اور پیسہ دنیا میں ہی نہ رہ جائے گا؟کیا لوگوں کے دل سے خوفِ خدا بالکل ہی ختم ہو چکا ہے؟لالچ ہی لالچ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *