مزہ یا تباہی؟

نشے کے متاثرہ افراد کی تعداد میں بڑھتا اضافہ ___ ایک سازش

پاکستان میں دن بہ دن نشہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی کیوں جا رہی ہے؟ کیا اسکی روک تھام کا کوئی ذریعہ نہیں یا پھر حکومت کوشش ہی نہیں کرنا چاہتی؟ اس دھندے کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ صرف2013 سے2016 کے درمیان نشے کے شکار افراد کی تعداد میں 125فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے پہل چرس، ہیروئن، افہیم، شراب کو نشے میں مرکزی حیثیت حاصل تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس حرام اور مہلک چیز نے نئے روپ اختیار کر لیے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک شیشہ اس ضمرے میں پیش پیش تھا مگر جدید ترین نشہ اب ’’آئس یاکرسٹل میتھ‘‘ کے نام سے متعارف کرایا جا چکا ہے۔ المیہ ہے ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو نشے کی اقسام اور شکل بدل کر ورغلایا جا رہا ہے۔ ایسی اشیاء کو نشہ آور نہیں بتایا جاتا اور انہیں مزہ لینے کا ایک ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔ جبکہ در حقیقت یہ نشہ آور عنصر ’نارکوٹکس‘ ہی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ اس قدر مہلک ثابت ہوتی ہیں کہ آہستہ آہستہ دماغ پر اثر کرکے اسکے نظام اور جسم کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ ان سے متاثرہ افراد یہی سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی نشہ نہیں اور وہ جب بھی چاہیں انہیں چھوڑ سکتے ہیں جبکہ حقیقت اسکے بر عکس ہوتی ہے۔ نشے کے شکار یہ افراد بآسانی علاج کیلئے راضی بھی نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ اپنی زندگی تو تباہ کرتے ہی ہیں مگر گھر والوں کا بھی نا قابلِ تلافی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
اب تو یہ حالات ہیں کہ ایسی نشہ آور چیزیں کھلے عام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بک رہی ہیں۔ نوجوان نسل بہت تیزی سے اس کے باعث متاثرہو رہی ہے۔یہ اس ملک کے نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک بھیانک سازش ہے۔ رنگ و روپ بدل کر دھوکہ دہی سے اس قوم کو نشے کا عادی بنا دیا جانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل تباہ ہو جائے ، اسکے نوجوانوں میں کوئی سکت باقی نہ رہے اور نشہ انکی رگ رگ میں زہر بن کر دوڑے۔ یہی سب دیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اصل قصور کس کا ہے؟ ان لوگوں کا جو اس سازش کے پیش کردہ،پشت پناہ اور اس میں ملوث ہیں؟ یا پھر والدین کا جو اپنے بچوں خاص کر نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھتے؟ یا پھر خود نوجوانوں کا کہ وہ معاملے کی تہہ تک جانے کی بجائے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور دن بہ دن اسکی لت میں گھِرتے ہی جا رہے ہیں بنا اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کی پرواہ کیے؟ کیا حکومت اس مہلک اور نا جائز دھندے کی روک تھام کیلئے کبھی اقدامات کرے گی یا پاکستان کی قوم کو تاریکیوں میں ڈوبتا دیکھتی رہے گی؟ کیا کبھی ایسے عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی کہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے؟ ایک سنجیدہ مسئلہ حل طلب ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *