مستقبل کا کیا

تعلیمی اداروں کا ماحول کس جانب جا رہا ہے

 ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول کس جانب جا رہا ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول کس جانب جا رہا ہے؟ کیا تعلیم کا مقصد شعور و آگہی فراہم کرنا نہیں؟ کہیں ہمارے نوجوان اور بچے سنورنے کی بجائے غلط راہ پر تو گامزن نہیں ہو رہے؟ آجکل تعلیمی ادارے ایسے حالات سے دو چار ہیں کہ سن کر انسانیت بھی کانپ جائے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ ہائی سوسائٹیز کے کالجوں اور جامعیات میں نشہ آور چیزیں فراہم کی جا رہی ہیں؟ ایسے ڈرگ مافیا اپنے کچھ بندے ان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کے روپ میں ہی بھیج دیتے ہیں جو نا پختہ ذہن بچوں کو ورغلا کر انہیں نشے کی راہ دکھا دیتے ہیں اور یوں انکی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ ایک اور بہت بڑا مسئلہ لڑکے اور لڑکیوں کی بے جا بات چیت اور دوستی کی وجہ سے سر زد ہو رہا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ دوستی غلط رنگ اختیار کر جاتی ہے اور نوجوانوں کا ذہن غلط نہج اختیار کر لیتا ہے۔ یوں کئی خاندانوں کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اگر بات کی جائے تعلیم کے معیار کی تونوجوان تعلیم سے زیادہ غیر اخلاقی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ کلاس چھوڑ کر وہ باہر لان میں بیٹھے خوچ گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ والدین ایک بھاری رقم انکی فیس کی ادائیگی کے طور پر صرف کرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور انکی اولاد انکے سامنے تباہی کے دھانے پر کھڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟ کیا اس میں غلطی ان اداروں کی انتظامیہ کی غفلت کی نہیں؟ کیا اس میں غلطی والدین کی بھی نہیں جو بچوں کی جانب سے لا پرواہ ہیں؟ کیا ہم اپنی نوجوان نسل کو یونہی تباہ ہوتے دیکھتے رہیں گے؟مستقبل کا کیا !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *