معاملہ تسلیم طلب ہے

رشتوں میں میل جول کی دُوری

کیا وجہ ہے کہ لوگ موجودہ دور میں ایک دوسرے سے مسلسل دور ہی ہوتے جا رہے ہیں؟ آپس کا میل جول اور باہمی رابطہ اتنا کمزور کیوں پڑتا جا رہا ہے؟ اب لوگوں کو کیوں اپنے عزیزواقارب کی خبر تک نہیں ہوتی؟ اس بات سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں ہماری زندگیوں کو سہل بنا دیا ہے وہیں بہت سے خطرات بھی لاحق کر دیے ہیں اور منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔انسانی زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے۔ دورِ حاضر میں ہر کوئی اپنی پریشانیوں کا رونا رونے اور جتنا حاصل ہے اس سے زیادہ پانے کی تگ و دو میں نظر آتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کے پاس اپنے عزیزواقارب کی خبر لینا تو درکنار، ان کا حال چال پو چھناتک یاد نہیں۔خاص طور شہروں میں یہ رواج پروان چڑھ رہا ہے ، دیہاتی علاقوں میں سادہ طرزِ زندگی کی بدولت اب بھی ملنساری، اخلاق اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی روایات برقرار ہیں۔شہروں میں حالات اسکے متضاد ہونے کی ایک بہت اہم وجہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا اور بے دریغ استعمال ہے۔ نوجوانوں اور بچوں کا یہ حال ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر کی جانے والی دوستیوں کو نبھانے میں اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں گھر کے کسی فرد کی کوئی خبر نہیں۔ اسی کے باعث دیگر کئی نقصانات بھی واقع ہو رہے ہیں جن میں وقت کا ضیاع اور پڑھائی کی طرف عدم توجہ اور حرج شامل ہیں۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ شہروں کی گہما گہمی اور مصروفیات لوگوں کے وقت کا ایک بڑا حصہ خود میں صرف کروا دیتی ہیں۔ ہم نے خود ہی اپنے لیے کام اتنے بڑھا لیے ہیں اور خود کو اتنا تھکا لیتے ہیں کہ اس کے بعد نہ تو کسی سے بات کرنے کا دل چاہتا ہے اور نہ ہی ہنسنے بولنے کا، تلاش ہوتی ہے تو صرف سکون اور آرام کی۔مگر یہ بات زیادہ تر محنت مشقت کرنے والوں اور کام کاج کرنے والوں کے معاملے میں درست ہے۔باقی اگر بات کی جائے عام عوام کی تو ہر کوئی موبائل فون استعمال کرنے میں مصروف نظرآ تا ہے اور گھر والے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ شاید ہم سے بھی کوئی بات کر لی جائے۔ جنہیں آپکے وقت اور توجہ کی ضرورت ہے وہ آپکی لاپرواہی اور نظر اندازی کا شکار ہیں جبکہ وہ غیرجو آپکو جانتے تک نہیں اور نہ ہی آپ سے کوئی رشتہ رکھتے ہیں، آپکے وقت کے حقدار ٹھہر رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟کیا کوئی بھی چیز ، کام یا خواہش رشتوں ،خاص کر کے خونی رشتوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے؟ ہم زندگی کی اصل خوشیوں کی بجائے فضولیات میں کیوں خوشیاں ڈھونڈتے اور اپنا وقت صرف کرتے ہیں؟ معاملہ تسلیم طلب ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *