پرہیز علاج سے بہتر ہے

کینسر کی بڑھتی شرح
کینسر کیا ہے؟ یہ کیسے پھیلتا ہے؟ امریکن کینسرسوسائٹی کی بیان کردہ تعریف کے مطابق کینسر چندبیماریوں کا ایک ایسامجموعہ ہے جو جسم کے خلیوں کی غیر معمولی بڑھوتری کے صورت میں نمودار ہوتا ہے جو کہ بعد ازاں قو تِ مدافعت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے اور اس پر قابو پانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ہن میں سے ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ ہمارا جسم چھوٹے چھوٹے خلیات سے ملکر بنا ہوتا ہے۔ان خلیات کی درمیان پورا ایک نظام کام کر رہا ہوتا ہے جو کہ ان کو آپس میں ملاتا اور جوڑے رکھتا ہے۔ اسطرح یہ خلیات آپس میں ملکر ہمارے جسم کا نطام چلاتے اور مختلف مقاصد سر انجام دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ایک دوسرے کی بڑھوتری اور کارکردگی پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ لحاظہ جب کوئی خلیہ اس دوران نامناسب حد تک بڑھنے لگے تو اسکے اردگرد کے خلیے اسے تباہ کر دیتے اور نظام کو خراب کرنے سے روکتے ہیں۔ کینسر کے جراثیم سب سے پہلے اس باہمی رابطے کو منقطع کرتے ہیں تاکہ اثر انداز ہو سکیں۔ اسکے نتیجے میں جب کچھ خلیات غیر معمولی طور پر بڑھتے ہیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں جسم کے دوسرے نظام بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں کینسر کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد اسکے باعث موت کا سامنا کرتے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد اس موذی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔اسکا سبب بننے والی اشیاء میں نشہ آور ادویات، تمباکو، نشہ، جسمانی حرکت کی کمی،نامناسب غذا، ٹینشن،نقصان دہ ما حولیاتی عناصر جیسے کہ آلودگی،خاندانی شجرہ اور وائرس شامل ہیں۔ کینسر کی علامات وزن میں اچانک کمی،بخار،تھکن، درد اور علاج پر آرام نہ آنا،جلد کی رنگت میں تبدیلی، تِلوں کا بے تحاشا نمودار ہونا،بالوں کا غیر ضروری بڑھاؤ،منہ میں چھالے رہنا،جسم کے مختلف حصوں میں گٹھلیاں بن جانا، مستقل کھانسی اور آواز کا بھاری پن ہو سکتی ہیں۔اگر یہ مرض ابتدائی مراحل میں ہی تشخیص ہو جائے اور بر وقت اسکا مناسب علاج کرایا جائے تو اس پر قابو پانا ممکن ہے۔ لیکن اگر لاپرواہی برتی جائے تو پھر یہ لاعلاج ہو جاتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔اس سلسلے میں قوم کو معلومات ہونا بے حد ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *