پھر یہ توہونا ہی ہے

نیند اور ڈپریشن کی ادویات کا استعمال عروج پر
کیا وجہ ہے کہ نیند دلانے اور ڈپریشن دور کرنے کی گولیوں اور دیگر ادویات کا استعمال آجکل عروج پر ہے؟ کیا اس سب کے ذمہ دار خود ہم ہی تو نہیں؟ کیا آپ واقف ہیں کہ یہ ہماری صحت اور ذہنی نظام کیلئے کتنی نقصان دہ ہیں؟ اس افراتفری، نفسا نفسی اور لالچ کے دور میں ہر کوئی مزید سے مزید پانے کی دھن پر سوار ہے۔ ہم سے پہلے جو زمانے گزرے وہ سادگی کے دور تھے اور جونسلیں گزریں وہ محنت کرنے اور سادگی سے زندگی بسر کرنے والی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انکی زندگی میں سکون تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان سہل پسندی کا مزید سے مزید شکار ہوتا گیا اور اپنے عیش و آرام کے کئی لوازمات اس نے تیار کر لیے اور کرتا ہی جا رہا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ پھر ہر کوئی ان آسائشوں اور تعیشات کو پانے میں سرگرداں ہو گیا۔ ہر انسان کا دل چاہا کہ اس کے پاس ہر سہولت ہر پُر تعیش چیز اور آسائش موجود ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسان انہی چیزوں کو پانے کیلئے دن رات محنت کرنے لگا اور اگر کوئی غلط راہ بھی اپنانا پڑی تو اپنائی۔ ایسے میں اس نے خود کو بھی تھکا لیا اور جب اسی لالچ میں گناہ کیا تو اپنے لیے خدا کے ہاں عذاب بھی لکھوا لیا۔ آہستہ آہستہ انہی وجوہات کی بناء پر اسکا سکون غارت ہونے لگا۔ وہ مختلف پریشانیوں اور میں مبتلا ہو گیااور انہی پریشانیوں میں اسکی نیند بھی حرام ہو گئی۔ ان آسائشوں کا حصول اسنے خود ہی اپنے لیے ضروری تصور کر لیا اور پھر انہیں پانے میں کتنی ہی اور مصیبتوں کا سامنا کرنے لگا۔ جب یہ حالات ہوں گے تو پھر انسان اس مشینی زندگی سے تھک کر سکون تلاش کرنے اور پریشانی دور کرنے کے بہانے اور ذرائع کا سہارا لے گا۔انہی ذرائع میں آجکل سرِ فہرست نیندآور اور ذہنی سکون دینے والی گولیاں اور دیگر ادویات ہیں۔ انکا استعمال زورو شور سے جاری ہے۔ مگر یہ انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور ذہنی کارکردگی کو شدید متاثر کرتی ہیں۔جسم کے دیگر اندرونی اعضاء آہستہ آہستہ مگلوج ہونے لگتے ہیں۔ ان میں نشہ آور عناصر شامل ہوتے ہیں جنکا انسان بہت غیر محسوس طریقے سے عادی ہو جاتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اسکے لیے یہ ادویات چھوڑنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ہم اس چھوٹی سی زندگی کو بھر پور طریقے سے خدا کی عبادت اور اسکی مرضی کے مطابق گزارنے سے کیوں نالاں ہیں؟ ہم ہر کام میں سہل پسندی کا شکار کیوں ہیں؟ کیا یہ دنیا کی چیزیں دنیا ہی میں نہیں رہ جانی؟ تو پھر ہم کیوں خود کو تھکا کر ایسی ادویات کا سہارا لے کراپنی جان کے خود دشمن بن جاتے ہیں؟ پھر یہ تو ہونا ہی ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *