پہچان ہے خطرے میں

تہذ یب و تمدن اور ثقافت سے لاپرواہی

ہم اپنی تہذیب و تمدن کو کیوں فراموش کرتے جا رہے ہیں؟ کیوں اپنی ثقافت سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں؟ اپنی قوم کا خاتمہ خود اپنے ہاتھوں ہی کیوں کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی ہی پہچان مٹا رہے ہیں؟پاکستان میں مغربی اور ہندوستانی ثقافت کو اپنانے اور انہی کو اپنانے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم اس حقیقت سے منکر نہیں کہ مغربی مملک ترقی کے لحاظ سے اور ہندوستان فلمی صنعت کے شعبے میں ہم سے کئی آگے ہیں۔ اور نہ ہی اس امر میں کوئی برائی ہے کہ خود سے بہتر ممالک کی ترقی سے سبق حاصل کرکے اپنے ملک کی ترقی کیلئے ان اصولوں کو لاگو کرنا چاہیے۔ مگر کسی دوسرے ملک کی ثقافت، رسم و رواج اور تہذیب کو اپنا لینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اس وقت انگریزی ایک بین الا قوامی زبان کی حیثیت رکھتی ہے اسی لئے دنیا بھر میں اسکی الگ ہی حیثیت ہے۔ اسے سیکھنا اور اسے بولنے کے قابل ضرور ہونا چاہیے تاکہ دنیا کے کسی ملک کے کسی شخص سے رابطہ کرنا مقصود ہو تو بآسانی ایک دوسرے کو اپنا موقف سمجھایا اور سمجھا جا سکے۔ مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ اپنی قومی زبان کو بالکل ہی فراموش کر دیں ، صرف انگریزی ہی پر توجہ دیں اور اسے بولنے میں فخر محسوس کریں۔ یہی حالات پاکستان میں موجودہ فیشن کے بھی ہیں جسکے نام پر مغربی اور ہندوستانی طرز کے بے پردہ لباسوں کو اپنایا جا رہا ہے اور اسے جدت کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس بات کو سراسر فراموش کیا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں پردے کا حکم دیتا ہے۔ اپنے شاعروں کی معیاری شاعری کو چھوڑ کر انڈیا کے گانوں کی گونج ہی ہر جانب سنائی دیتی ہے۔ خود ہی سوچیں ان مملک کو ترقی کون دے رہا ہے انکی تہذیب و ثقافت کو اپنا کر؟یاد رکھیں کہ کسی ملک کا تہذیب و تمدن، زبان، لباس اور ثقافت کے زیر آنے والے تمام دیگر عناصر ہی اسکی پہچان بناتے ہیں۔ جن قوموں نے اپنی پہچان کھو دی انکے پاس کچھ باقی نہ رہا اور وہ انہی کے ہاتھوں مغلوب ہو گئیں جن کی طرز کو انہوں نے اپنایا۔پھر انکا اپنا کوئی نشان اور کوئی الگ پن ایسا نہ رہا جو انہیں بحیثیت قوم کے متعارف کروا سکتا۔کیا دوسروں کی ثقافت سے متاثر ہونے اور اسے سراہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ثقافت کو بھول کر اسے ہی اپنا لیا جائے؟ کیا ہمارے تہذیب و تمدن دوسروں کے مقابلے میں بہتر نہیں؟ کمی کیا ہے جو ہمارے لوگ دوسری جانب کھنچتے جا رہے ہیں؟ہم کیوں اپنی تاریخ اور اپنا مذہب تک بھولتے جا رہے ہیں جو ہمیں ہر طرز سے دوسروں سے ایک الگ قوم بناتا ہے؟ پہچان ہے خطرے میں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *