کیا توجہ ملے گی؟

بے روزگاری کی ایک اہم وجہ
اس ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی اہم وجوہات پر کیا اس ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی اہم وجوہات پر کیا کبھی کسی نے غور کرنے کی کوشش کی؟ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی عوام کی ایک بڑی تعداد آخر کیوں بہتر روزگار کمانے سے قاصر ہے؟ کیا اس المیے کے پیچھے بنیادی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہی تو نہیں؟ بے روزگاری کی ایک اہم وجہ ہمارے ملک کے تعلیمی نصاب کا انشائیہ طرز پر مشتمل ہونا ہے۔ اکثر اداروں میں مضامین کو تفصیلاً پڑھا اور سمجھا تو دیا جاتا ہے اور پھرطلباء و طالبات کے اسی یاد کردہ علم پر انہیں پاس کر کے ڈگریاں تھما دی جاتی ہیں مگر عملی طور پر نہ تو اس علم کی ریاضت کرائی جاتی ہے نہ ہی مشق۔ نتیجتاً جب یہ فارغ التحصیل طلباء و طالبات روزگار کمانے کی غرض سے عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دورِ رواں میں تقریباً ہر ایک ادارہ ہی تجربہ مانگتا ہے۔ تجربہ تو دور کی بات، جس طالبِعلم نے کبھی عملی تربیت بھی حاصل نہ کی ہو، وہ معیار پر کب پورا اتر سکتا ہے۔ اسی کے پیشِ نظر روزگار حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری اہم وجہ ایسے مضامین کے علم کی اعلیٰ تعلیم ہے جن میں استاد بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ اس صورتحال میں اگر کسی اچھے سکول یا کالج میں نوکری نہ مل پائے تو مسئلہ ہی مسئلہ۔ ایسے لوگوں کو مجبوراً کسی چھوٹے پیمانے کے نجی سکول کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں کام کے مطابق تنخواہ میسرنہیں ہوتی۔ اگر سوچ کو تھوڑا بلند کیا جائے اور ادارے غیر تجربہ کار لوگوں کو ایک بار موقع دینے کی کوشش کریں تو ہو سکتا ہے ان میں وہ ہنر نظر آئے جسکی کوئی امید نہ کی جا رہی ہو۔ اگر ہر کوئی ہی تجربہ مانگے گا تو یہ لوگ آخر کہاں سے شروع کریں گے؟ قابلیت، علم اور ہنر رکھنے والے بے روزگار افراد جب اچھے اداروں کی جانب سے ناکامی کا سامنا کرتے ہیں تو یا تو انہیں کسی ایسی جگہ نوکری کرنا پڑتی ہے جو کسی صورت انکی قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتی، یا پھر وہ بے روزگار رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایسی نوکریاں انکی تعلیم اورقابلیت کے مطابق ہوتی ہی نہیں۔اگر اس مسئلے پر غور کرکے اگر تعلیمی نظام اور نصاب کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق بنا دیا جائے، نیز تفصیلی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو عملی طور پر بھی اتنا ہی قابل اور تربیت یافتہ بنا دیا جائے کہ کسی ادارے کو تجربہ درکار ہی نہ رہے، تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ کیا حکومت توجہ نہیں دے سکتی؟ کیابے روزگاری دن بہ دن ایک بڑھتا مسئلہ نہیں ہے؟ کیا مزید اقدامات کرکے اس مسئلے پر قابو پا کر عوام کیلئے آسانی پیدا کرناحکمرانوں کی ذمہ داری نہیں؟ کیا اس معاملے پر اساتذہ اور نصاب دان ملکر کوشش نہیں کر سکتے؟کیا روزگار اور ترقی حاصل کرنا اس ملک کی عوام کا حق نہیں؟تو پھر توجہ ملے گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *