یقین کیسے قائم ہو

بڑھتی بے اعتمادی کی وجہ

کیا جہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر سے اپنا اعتبار کھوتےکیا جہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر سے اپنا اعتبار کھوتے جا رہے ہیں؟ دورِ حاضر میں کوئی شخص کسی کو اعتبار کے قابل سمجھنے سے کیوں کتراتا ہے؟ موجودہ دور میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے آپ اور ہم، سب ہی بہتر طریقے سے آگاہ ہیں۔ ہر کوئی شخص جھوٹ بولنے، دوسرے کو دھوکہ دینے، خیانت اور بے ایمانی کرنے ، ہیرا پھیری اور ناپ تول میں کمی کرنے، دوسروں کے جائز حقوق صلب کرنے ، کام چوری ، الغرض کہ اس قسم کی تمام معاشرتی برائیوں کا شکار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تاجر اور دکاندار اپنا مال بیچنے کیلئے جھوٹ بولنے میں آسمان اور زمین کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں۔ چیز کی قیمت اتنی ہوتی نہیں جتنی وصول کی جاتی ہے۔ ہر کوئی اپنی ہوس کا شکار نظر آتا ہے۔ سودا ککرتے اور تولتے وقت بے ایمانی سے کام لیا جاتا ہے۔ اب تو باقاعدہ وزن کرنے والی مشینوں میں پہلے سے سب فِکس کر دیا جاتا ہے اور جب انکے ذریعے وزن کیا جاتا ہے تو سودے کا وزن در حقیقت اتنا ہوتا نہیں جتنا وہ ظاہر کرتی ہیں اور پھر ظاہر کردہ وزن کے مطابق پیسے وصول کر لیے جاتے ہیں۔ کچھ یہی صورتِحال وزن کرنے والے پتھروں کی بھی ہے۔اگر بات کی جائے دفاتر، دکانوں یا کسی بھی ایسی جگہ کی جہاں کام کرنے والے ملازمین رکھے جاتے ہوں تو مالکان انہیں انکی جائز روزی اور اجرت دینے میں کوتاہ ہیں۔ اگر مالک اچھا ہو بھی تو ملازمین کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری سے سر انجام نہیں دیتے۔ مالک انکا وقت اور محنت خریدتا ہے اور اسکے بدلے وہ پیسے وصول کرتے ہیں مگر وہ یا تو ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں یا پھر کوئی نہ کوئی کام سے جی چرانے کا بہانہ انکے پاس موجود ہی رہتا ہے۔ پھر اگر مالک انکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کٹوتی کرتا ہے تو وہ اپنے حقوق کے نہ ملنے کا رونا روتے ہیں۔ تقریباًہر شخص ہی سہل پسند ہو چکا ہے اور چاہتا ہے کہ بنا کوئی محنت کیے اسکی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں اور اسے تمام آسائشیں بھی میسر آجائیں۔ ہر دوسرا شخص زیدہ سے زیدہ دولت حاصل کرنے کی لالچ میں دکھائی دیتا ہے۔ جب حالات یہ ہیں تو اس معاشرے میں کوئی بندہ کسی دوسرے پر اعتبار کر بھی کیسے سکتا ہے؟ جب ایک انسان آپکی نظروں کے سامنے آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہو تو کون ہے جو اسے آئندہ کیلئے اعتبار کے قابل سمجھے ؟ کون ایسے شخص پر اعتماد کر سکتا ہے؟ جب ہر کوئی ہی اپنے اپنے فائدے کیلئے دوسرے کا نقصان کرے گا تو یقین کیسے قائم ہو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *