یہ فرق آخر کب ختم ہوگا؟

 کیا آپ اس ملک کے تعلیمی نظام سے مطمئن ہیں؟ کیا کیا آپ اس ملک کے تعلیمی نظام سے مطمئن ہیں؟ کیا سرکاری سکولوں اور کالجوں میں منصفانہ تعلیم کا عمل جاری ہے؟ نجی تعلیمی ادارے کس طرح سے سرکاری تعلیمی اداروں پر سبقت رکھتے ہیں؟ مگر کیا نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات پورے کرنے کی ایک عام انسان حیثیت اور سکت رکھتا ہے؟ حقیقت تلخ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے سرکاری تعلیمی ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھانے سے کوتاہ ہیں۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں عملہ اور اسا تذہ زیادہ تر اس عہدے پر کام کرنے کے اہل نہیں ہوتے جن سے انہیں بھرتی کے وقت رشوت یا سفارش کی بِنا ء پر نواز دیا جاتا ہے۔ ان میں یا تو اس درجے کا نصاب پڑھانے اور سکھانے کی قابلیت ہی نہیں ہوتی جس پر وہ معمور کر دیے جاتے ہیں، یا پھر قابلیت ہو بھی تو وہ اپنے فرائض دیانت داری سے سر انجام نہیں دیتے۔نتیجہ بچوں کی تعلیم، صلاحیت اور قابلیت کے حرج کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے یا تو مطلوبہ سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں یا پھر ان سے بالکل ہی محروم ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی بہتر بندوبست نہیں ہوتا۔ دوسری جانب اگر نجی تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو ان میں بنیادی اور مطلوبہ تعلیمی سہولیات یقینی بنائی جاتی ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی تقرری عمل میں لائی جاتی ہے۔انکے تدریسی عمل کا پورا دھیان رکھا جاتا ہے اور کسی بھی معلم یا معلمہ کے معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں اسکا متبادل فراہم کیا جاتا ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں کا بہترین اور خاص انتظام بھی سرِ فہرست ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے نجی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ بچوں میں ہُنر، قابلیت کی اہلیت زیادہ ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی ساتھ، تمام سہولیات اور بہتر تعلیم کے عِوض ان تعلیمی اداروں کی فیس اور اخراجات غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی حیثیت سے باہر ہوتے ہیں۔ اس طرح نقصان صرف غریب بچوں کا ہی ہوتا ہے اور انہیں مجبوراً سرکاری سکولوں اور کالجوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کیا حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات نہیں کر سکتی؟ حرج آخر غریب کا ہی کیوں ہوتا ہے؟اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو ہی تمام سہولیات فراہم کر دی جائیں اور انتظامیہ بہتر بنا دی جائے تو کیا یہ ملک زیادہ ترقی نہیں کر سکتا؟ یہ فرق آخر کب ختم ہوگا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *