آپ کسی سے کم ہیں کیا؟

احساسِ کمتری کی آخر بنیادی وجہ کیا ہے؟

 احساسِ کمتری کی آخر بنیادی وجہ کیا ہے؟ہم کیوں اس احساسِ کمتری کی آخر بنیادی وجہ کیا ہے؟ہم کیوں اس احساس کا شکار ہوتے ہیں کہ دوسرا فرد ہم سے بہتر ہے؟ کیا خدا پاک نے سب انسانوں کو برابر نہیں بنایا؟تو پھر لوگ آخر احساسِ کمتری کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ احساسِ کمتری کو اگر ایک ذہنی بیماری تصور کیا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔یہ تب واقع ہوتی ہے جب آپکو خود کو پسماندہ اور حقیر تصور کرنے لگیں۔اور اسکی بڑی وجہ کسی دوسرے فرد کو اعلیٰ مقام یا کسی اعلیٰ چیز کا مالک دیکھنا ہے۔اس صورت میں اگر آپ کسی کی شان و شوکت یا قابلیت و صلاحیت سے حد درجہ متاثر ہو جائیں تو آپ اس شخص کو خود سے بہت بہتر تصور کر کے ذہن پر سوار کر لیتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔اسی احساس کو احساسِ کمتری کہا جاتا ہے۔اگر سوچا جائے تو اﷲ تعالیٰ نے ہر انسان کو کسی نہ کسی ہُنر، قابلیت ا ور صلاحیت سے نوازا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ خود کو پہچان لیتے ہیں اور اپنی محنت کے بل بوتے پر اس صلاحیت کو استعمال میں لا کر اعلیٰ مقام پا لیتے ہیں۔دوسروں کو خود سے بہتر تصور کر نے کی بجائے اگر آپ بھی خود کو پہچان لیں اور محنت سے کام لیں تو آپ بھی وہ سب پا سکتے ہیں جو چاہتے ہیں۔ کیونکہ انسانی جذبے کے آگے ہر رکاوٹ ماند پڑ جاتی ہے۔احساسِ کمتری کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ آپ بھی اپنے اندر جذبہ بیدار کر لیں اور پھر امحنت اور لگن سے من پسند خوشی یا مقام حاصل کر لیں۔احساسِ کمتری انسان میں حسد کی خامی پیدا کردیتا ہے۔اگر دوسرے لوگ یہ سب پا سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں؟آپ میں کیا کمی ہے؟ کیا ذہنی دباؤ مزید کئی مسائل اور بیماریاں بڑھانے کا باعث نہیں؟جب خدا نے سب کو برابر بنایااور اسی کا درس خطبہِ حجتہ الوداع میں ہمارے نبی پاکﷺ نے بھی دیا تو ہم کیوں کسی کو خود سے برتر محسوس کرنے لگتے ہیں؟کیا برتری کا معیار تقویٰ نہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *