ذاتی یا معاشرتی؟

کردار کامطلب

ہماری نظر میں کردار کیا ہے؟ ہم نے کیوں اسے ایکہماری نظر میں کردار کیا ہے؟ ہم نے کیوں اسے ایک انسان کی محض ذاتی صفات تک محدود کر دیا ہے؟ کردار میں صرف کسی انسان کی ذاتی اچھائیاں برائیاں شامل نہیں ہوتیں بلکہ اسکا معاشرے کی جانب رویہ بھی شامل ہوتا ہے۔جبکہ ہم نے کردار کو کچھ اور معنی دے رکھے ہیں۔ ہم نے اسے بہت محدود کر دیا ہے۔ اگر کوئی شخص عبادت گزار ہو، شراب نہ پیتا ہو، عورتوں کی عزت کرتا ہو، پرہیزگار ہو اور کسی کے لئے کچھ اچھا کر دے تو ہم اسے اچھے کردار کا مالک سمجھنے اور بولنے لگتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کردار کا تعلق محض انسان کی اپنی ذات کی اچھائیوں سے نہیں۔ بلکہ معاشرے اور دوسرے لاگوں کی جانب اسکا رویہ کیا ہے، یہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ایک کردار کی بناوٹ میں۔ اگر ایک شخص میں درج بالا سب خصوصیات موجود ہوں مگر وہ چوری کرتا ہو، کسی کا حق مارتا ہو، اپنے عہدے کا گائدہ اُٹھا کر دوسروں کا استعمال کرے اور اپنے عزیزوں کی نا جائز سفارش کرے جس سے کسی حقدار کا حق جاتا ہو، مغرور ہو، لالچی ہو، رشوت لیتا ہوتو کیا وہ اچھے کردار کا مالک ہوگا؟ کیونکہ کردار میں یہ بھی شامل ہے کہ معاشرے کو آپکی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے یا فائدہ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے کردار کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے ہیں اور اسے بہت ذاتی پیمانے پر جانچا جانے لگا ہے۔اس کی اصل روح تو کہیں کھو ہی گئی ہے۔ کردار میں ایک انسان کا ہر رویہ شامل ہے ۔اگر ایک شخص چوری کرتا ہو جس سے کئی لوگوں کا نقصان ہوتا ہو مگر وہ نماز پڑھ لے، عبادت کر لے تو کیا اسکا کردار ٹھیک ہوگا؟ اگر ایک شخص کسی کا حق چھین لے مگر عورتوں کی عزت کرتا ہو تو کیا اسے مکمل طور پر اچھے کردار کا مالک کہا جا سکتا ہے؟ ہم نے اصل معنی رد کر کے اپنی مرضی کے معنی کیوں مختص کر دیے ہیں کردار کے لئے؟ کردار کی اصل روح کو سمجھیں،یہ ذاتی ہے یا معاشرتی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *