رائیگاں مت جانے دیں

ابلاغ کا ہنر

 کیا آپ ابلاغ کے ہنر کی اہمیت سے واقف ہیں؟ کیا اس کیا آپ ابلاغ کے ہنر کی اہمیت سے واقف ہیں؟ کیا اس ہنر کے بغیر آپ کبھی کامیاب انسان بن سکتے ہیں؟ اگر آپ اپنے خیالات ہی دوسروں کے سامنے رکھ نہ سکیں یا انہیں دوسروں کے سامنے پیش نہ کر سکیں تو آپکی بہترین سوچ بھی بے کار جاتی ہے کیونکہ آپ اسے کبھی عملی جامہ پہنا ہی نہیں سکتے۔ اس ضمرمیں الفاظ اور لہجے کا چناؤ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ انسان کے الفاظ اور لہجہ ہی ہے جو اسکے چھوٹے سے اچھے خیال کو دوسروں کی نظر میں بہت مقبول اور قابلِ تعریف بھی بنا سکتے ہیں، اور ایک بہت اعلیٰ خیال کو بے اثر بھی بنا سکتے ہیں۔ کب ، کہاں ، کیسے بات کی جائے یہ صفات بھی ابلاغ کے ہنر میں شمار ہیں۔کوئی بھی کامیاب انسان بِنا اس ہنر کے حاصل کیے کامیاب نہ بن سکا۔ جب آپ کسی کو اپنا مؤقف ہی نہ سمجھا پائیں گے تو ترقی یا کامیابی بھی کیسے ھاصل کر سکتے ہیں؟اگر ایک شخص کسی کام کر کرنے یا کسی بھی معاملے کو سلجھانے کے بہت سے ذرائع سوچ سکتا ہو تو یقیناً وہ بہت عقلمند ہے۔ لیکن اگر اسی سوچ کو الفاظ کی صورت میں وہ کسی کے سامنے پیش نہ کر سکے اور اسے سمجھا نہ سکے تو کیا وہ عقلمندی اور وہ سوچ سود مند ہوگی؟ اگر آپ ابلاغ کا ہنر نہیں رکھتے تو آپ کسی کو قائل بھی نہیں کر سکتے۔ دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ اتنی سوچ و بچار نہیں کرتے مگر انکے پاس ابلاغ کا ہنر موجود ہوتا ہے جو انکی چھوٹی سی اچھی بات کو بھی انکے مقبولِ عام ہونے اور داد وصول کرنے کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ بہت ہی اچھے نہج پر سوچ سکتے ہیں مگر کسی کو سمجھا نہ سکنے کی صورت میں انکے سب اچھے خیالات غائع جاتے ہیں کیونکہ ان سے کسی کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیا کوئی شخص جب تک دوسروں کو قائل کرنے اور اپنے خیالات سمجھانے میں کامیاب نہ ہو جائے، ایک عقلمند انسان تصور کیا جا سکتا ہے؟ کیا کبھی وہ زندگی میں کامیابی اور مقام حاصل کر سکتا ہے اگر کوئی اسے ایک معمولی انسان سمجھ کر اسکے خیالات کو معمولی جانے اور وہ کسی کو اپنے ساتھ ہی نہ چلا پائے اور بتا ہی نہ پائے کہ وہ کتنا وسیع النظر ہے؟تو پھر ابلاغ کا ہنر حاصل کریں اور اپنے خیالات کو رائیگاں مت جانے دیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *