سوچ کی عظمت

غلطی کہاں ہے؟
ٓٓٓسوچ کو عظیم کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم ایک عظیم نبی کی امت ہونے کے باوجود بھی عظمت کی جانب نہیں جا رہے؟ کیا اس کی ایک اہم وجہ ہمارا اپنے عظیم راہنماؤں کو چھوڑ کر دوسروں سے متاشر ہونا تو نہیں؟ سوچ کو بہتر بنانے کیلئے ایک بہت اہم جزو غوروفکر اور مشاہدہ ہے۔ ہم اس چیز کی جانب توجہ نہیں دیتے ۔ مشاہدہ ہماری سوچ کو نئی راہوں پر گامزن کرتا ہے اور ہمارے سامنے بہت سی حقیقتیں کھول دیتا ہے جس سے ہمیں اپنا آپ پہچاننے اور خود کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ مشاہدہ اور غوروفکر کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ تو اسکے لئے ایک ذریعہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے ایسی عظیم شخصیات کی مثالیں موجود ہوں جن سے ہم اثر لے سکیں۔جن کی باتیں اور قصے سن یا پڑھ کر ہم سوچ سکیں۔ انسان کے سامنے عظمت کا ایک ذریعہ ایک نمونہ موجود ہوگا تبھی وہ اپنی سوچ کو اس حد تک اور اس معیار تک لے جا سکتا ہے۔اب اگلا مرحلہ یہ طے کرنے کا ہے کہ ہمارے بچوں کو آجکل جو کچھ نصاب کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے وہ انہیں عظمت کی مثال اور سوچ کا وہ نہج دے سکتا ہے یا نہیں۔ جب بات آ جائے عظمت کی تو ہمارے پیارے نبیﷺ سے زیادہ عظیم ہستی بھی کوئی ہو سکتی ہے؟کیا کوئی ایسا انسان ہے جو ان سے زیادہ مکمل ذات کا مالک ہو؟ پھر ہم نے نصاب میں جہاں دوسرے ممالک اور اقوام سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی کہانیوں اور انکی زندگی سے متعلق معلومات کو شامل کر رکھا ہے، وہاں انکو خارج کرکے اگر ہم سیرتِ نبی ﷺ کو شامل کریں تو کیا وہ بہتر نہ ہوگا؟ انسانی زندگی کا کوئی ایک بھی پہلو ایسا ہے جس سے متعلق انہوں نے راہنمائی نہ دی ہو؟ کیا مسلمان راہنماؤں کی سی عظمت دوسری اقوام کے ہیرو میں ملتی ہے؟ مسلمان ایک طویل عرصے تک طاقت اور سلطنت میں نہیں رہے؟ کیا وہ عظیم فاتحین کی فہرست میں شمار نہیں ہوتے؟ تو پھر کسی دوسری قوم سے متاثر ہونے کی بجائے ہم اپنے بچوں کو اپنی تاریخ اور اپنی عظمت کی کہانیاں کیوں نہیں سناتے؟ اور اپنے سب سے عظیم راہنما حضرت محمد ﷺ کی سیرت پڑھا کر انکے لیے سوچ اور مشاہدے کی راہیں کیوں نہیں کھولتے؟ غلطی کہاں ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *