سکون کی نیند

رزقِ حلال ہی کنجی ہے

سکون کی نیند کن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے؟سکون کی نیند کن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ نیند کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے اور کامیاب سے کامیاب ، اعلیٰ عہدوں پر فائز، دنیاوی آسائشوں میں رہنے والے لوگ بھی سکون کی نیند سے محروم ہیں؟ جب بات آتی ہے سکون اور سکون کی نیند کی تو اسکا بہت گہرا تعلق انسان کی کمائی اور اسکے اعمال و کردار سے ہے۔ محنت کے ذریعے حاصل کی گئی حلال کی کمائی ہمیشہ آپکو سکون دیتی ہے ۔ جبکہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض پورے کیے بغیر حاصل کی گئی دولت سے آپ چاہے دنیا بھر کی سہولیات، دولت اور آسائشیں حاصل کر لیں، سکون نہیں پا سکتے کبھی۔ اگر ایک شخص کردار کا اچھا ہے، اسکی وجہ سے کسی کے حق کا استحصال نہیں ہو رہااور وہ اپنے روزگار کی تمام شرائط اور فرائض پورے کر کے تنخواہ یا روزی حاصل کر رہا ہے تو وہ کم کماتے ہوئے بھی سکون کی دولت سے مالا مال رہتا ہے۔ دوسری جانب رشوت لے کر یا سفارش پر کام کرکے کسی اور کا حق غصب کرنے والا کبھی سکون نہیں پا سکتا پھر چاہے وہ کتنا ہی کما لے۔ انسان کا کردار ان تمام باتوں سے منسلک ہے، کردار ذاتی نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر ہوتا ہے کہ دوسروں کی جانب آپکا رویہ کیسا ہے۔ جو کچھ موجودہ نظام اور دورِ حاضر میں دیکھا سنا جا رہا ہے، جب سو میں سے پچانوے فیصد لوگ اس میں شامل ہوں گے اور اسی سب کا ارتکاب کر رہے ہوں گے تو پانچ فیصد لوگوں کے علاوہ سکون کی نیند کسے حاصل ہونی؟ پھر نیند کی ادویات نہ استعمال کی جائیں گی تو اور کیا کیا جائے گا؟ جب کمائی اور اس سے پوری کی گئی ہر ضرورت ہی حلال نہ ہو گی تو سکون کیسے میسر آ سکتا ہے؟ رزقِ حلال ہی سکون کی نیند کی کنجی ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *