وقت تو لگتا ہے

جلد بازی کیوں؟

ہم ہمیشہ یہ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم جو بھی چیز یا مقصدہم ہمیشہ یہ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم جو بھی چیز یا مقصد پاناچاہیں وہ ہمیں فوراً ہی مل جائے؟ کیا اس کائنات میں کوئی بھی چیز ایک عمل کے پوراہوئے بِنا وجود میں آسکتی ہے؟ کیااس دنیا کو بھی بننے میں سات دن کا عرصہ درکار نہ تھا؟ پھر انسان اتنا بے صبر کیوں ہے؟ آدمی کو اکثر ہی صبر سے عاجز پایا گیا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ جس بھی چیز کی خواہش کرے وہ چیز بلا تکلف اسی وقت اسے حاصل ہو جائے۔ جلد سے جلد اپنا مقصد پا لینے کی تمنا اسے غلط راستہ چننے پر بھی مجبور کر دیتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمان بھول جاتا ہے کہ انسان خسارے میں ہے سوائے اس شخص کے جس نے صبر سے کام لیا۔ اس کائنات میں ہر چیز یا رشتے کو وجود میں آنے کیلئے ایک وقت درکار ہوتا ہے اور جب تک وقت آ نہ جائے، کوشش بیکار ہے۔ اگر انسان ضد کر کے اس چیز یا مقصد کو حاصل کر بھی لے تو وہ اس کیلئے بہتر نہیں رہتی اور اسے نقصان ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بزرگوں کی بھی مشہور کہاوت ہے کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے اور شیطان کے راستے پر چل کر انسان کبھی سُکھ نہیں پا سکتا۔ہمیں اس کائنات میں اپنے ادرگرد بکھری مثالوں سے بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ کیا پھل ایک ہی دن میں درخت پر لگ جاتا ہے؟ نہیں، اسکے لیے پہلے بیج بونا پڑتا ہے، پانی دینا پڑتا ہے۔ پھر ایک شاخ نکلتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ پودا درخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ تب کہیں جا کر وقت کے ساتھ ساتھ اس پھر پھل لگتا ہیں اور وہ بھی تب جب اس پھل کا موسم ہوتا ہے۔ بالکل یہی صورتِحال ہماری خواہشات کی بھی ہے، جب تک انکے پورا ہونے کا منسب موسم یا وقت نہ آ جائے، اس سے پہلے کی جلد بازی بیکار اور نقصان دہ ہے ایسے ہی جیسے ایک پھل کوپکنے سے پہلے اُتار لیا جائے تو نہ اسکا ذائقہ ہوتا ہے اور نہ ہی مزہ۔ہم لوگ رشتے بنانے اور حاصل کرنے کے معاملے میں بھی بہت جلد باز ثابت ہوتے ہیں۔ جس شخص سے رشتہ قائم کرنا مقصود ہو، اسکا اعتبار حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اسکو صحیح طور پر جاننے کی سعی کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے تو صرف یہ کہ جلد از جلد ہمارے اس شخص سے تعلقات قائم ہو جائیں، چاہے وہ مفاد کی بنیاد پر ہوں یا پسند کی بنیاد پر۔یہی جلد بازی بعد میں کئی نقصان دہ نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ کیا انسان کا اپنا وجود بھی ایک مدت کا وقت لے کر عمل میں نہیں آتا؟ کیا ہم خدا کی رضا پر راضی نہیں ہو سکتے؟ ہم کیوں اپنی جلد بازی کے لیے کی گئی کوششوں کو محنت کا نام دے دیتے ہیں؟ اور پھر جب ہمیں اپنی خواہش یا مقصد جلد پورا ہوتا نظر نہیں آتا تو قسمت کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں؟وقت تو لگتا ہے!